’بدیشی یاترا‘ ختم، پوسٹ پارٹم شروع

305751 1898849115


ایک کیفے میں گذشتہ دنوں دوستوں کے ساتھ ملاقات ہوئی۔ ہر دوسری دوست پوسٹ پارٹم کا شکار تھی، کوئی امریکی پوسٹ پارٹم اور کوئی لندن پوسٹ پارٹم سے اذیت ناک حد تک متاثر تھی۔

ہر بات پر کہتیں دو سال ہو گئے ابھی تک لندن پوسٹ پارٹم سے گزر رہی ہوں۔ ایک سال ہو گیا ہے امریکہ اندر سے نہیں جا رہا اور اب تو ایک ’گریف کوچ‘ کی خدمات بھی لے رہی ہوں جو اس پوسٹ پارٹم سے مجھے نکالے، مجھے ہیلنگ میں مدد دے۔

سننے کو یہ باتیں کچھ بڑی بڑی ایلیٹ کلاس کی، کچھ پھینکی ہوئی لگ رہی تھیں اور کچھ واقعی پریشان اور اداس کر دینے والی۔ اس ایک ملاقات نے میری سوچ کو ایک نیا زاویہ بہرحال ضرور دیا کہ کیا وجہ ہے پاکستان، انڈیا سے ’بدیشی یاترائیں‘ کرنے والی یہ کلاس اپنے ممالک میں واپس آتے ہی مایوسی اور ڈپریشن کا شکار ہو جاتی ہے؟

خیر ان ممالک کے ایئرپورٹس پر اترتے ہی ایک زور کا جھٹکا دھیرے سے ضرور لگتا ہے اور مجھے تو یہ جھٹکا تھوڑا کم ہی لگتا ہے، شاید اس لیے کہ میں اسلام آباد میں رہتی ہوں، لیکن یہ جھٹکا لگتا ضرور ہے اور کئی ہفتے اس کی آفٹر شاکس بھی آتے رہتے ہیں۔

آج لیکن میں نے ٹھان لی کہ پتہ تو کروں آخر کیا وجوہات ہیں کہ میرے دوست آتے ہی پوسٹ پارٹم ڈپریشن میں کیوں چلے جاتے ہیں؟

جناب جب تحقیق کی کوشش کی تو اس پوسٹ پارٹم کی مختلف وجوہات سامنے آئیں۔ سوچا آپ سے ضرور شئیر کروں تاکہ آپ اپنے بدیشی پلٹ دوستوں کی اس کیفیت کو منفی انداز میں نہ لیں۔

اس کیفیت کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ حقیقی معنوں میں پوسٹ پارٹم ڈپریشن نہیں بلکہ ایک طرح کا صدمہ ہے، جسے دنیا بھر میں ریورس کلچر شاک کہا جاتا ہے۔

جب انسان کئی ہفتے یا کئی ماہ کسی ایسے ملک میں گزار کر واپس آتا ہے جہاں نظام نسبتاً منظم، سڑکیں صاف، ٹریفک کے اصول واضح، وقت کی پابندی معمول، عوامی سہولیات بہتر اور فرد کی نجی آزادی زیادہ محسوس ہوتی ہو تو واپس آکر اپنے معاشرے کی وہ چیزیں جو پہلے معمول کا حصہ تھیں اچانک ناقابل برداشت محسوس ہونے لگتی ہیں۔

مسئلہ یہ بھی ہے کہ بیرون ملک رہتے ہوئے انسان اپنے ملک کو یاد تو کرتا ہے مگر اکثر اپنے ملک کی حقیقی زندگی کو نہیں، بلکہ اپنی یادوں کو یاد کرتا ہے۔ جی ہاں اسے گھر کا کھانا، دوست، خاندان، اپنی زبان، اپنی گلیاں اور اپنے لوگ یاد آتے ہیں، لیکن واپسی پر جب یہ ہی خوبصورت یادیں بجلی کی بندش، ٹریفک، شور، دھواں، صفائی کے مسائل، بدانتظامی، ایئرپورٹ ہورٹس پر ہی مختلف مراحل طے کرتی مسافروں کی قطاروں کی عدم موجودگی، ناانصافی، سرکاری اداروں کی سست روی اور روزمرہ کی بے یقینی سے ٹکراتی ہیں تو ذہن ایک عجیب تضاد کا شکار ہوجاتا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسرا بڑا مسئلہ موازنہ ہے۔ بیرون ملک سے واپسی کے بعد انسان کا دماغ ہر چیز کا موازنہ شروع کر دیتا ہے۔ وہاں بس وقت پر کیوں آئی اور یہاں کیوں نہیں؟ وہاں کوئی قانون توڑنے سے کیوں ڈرتا ہے اور یہاں قانون توڑنا اتنا معمول کیوں ہے؟ وہاں سڑک پر پیدل چلنے والے کو راستہ کیوں ملتا ہے اور یہاں اسے اپنی جان بچانے کے لیے کیوں بھاگنا پڑتا ہے؟

وہاں سرکاری دفتر میں ایک کام چند منٹ میں ہوجاتا ہے اور یہاں کئی دن کیوں لگ جاتے ہیں؟ یہ سوالات آہستہ آہستہ غصے، بے بسی اور مایوسی میں تبدیل ہونے لگتے ہیں۔ تو اگر یہ کہا جائے کہ یہ پوسٹ پارٹم اپنے ملک میں سہی جانے والی اور برداشت کرنے والی ناانصافیوں، ظلم، زیادتی اور ہر روز بڑھتے ہوئے جرائم کی وجہ سے ہے تو کچھ غلط بھی نہ ہوگا۔

ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ بیرون ملک سفر کرنے والی نسبتاً مراعات یافتہ طبقے کی خواتین اور مردوں کو واپسی پر صرف نظام کا فرق نہیں بلکہ اپنی سماجی آزادیوں کا فرق بھی محسوس ہوتا ہے۔

وہاں پوری سماجی آزادی سے ایک محفوظ ہونے کے احساس کے ساتھ، تنہائی میں کافی پینا، رات کو باہر نکلنا، پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنا، اپنی مرضی سے لباس پہننا یا صرف خاموشی سے اپنی زندگی گزارنا معمول محسوس ہوسکتا ہے لیکن واپس آکر خاندان، معاشرہ، سوالات، توقعات اور سماجی اور سوشل میڈیائی نگرانی کا دباؤ بعض اوقات بہت بھاری محسوس ہوتا ہے۔

پھر سوشل میڈیا نے اس کیفیت کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ بیرون ملک دلکش مقامات کی تصاویر، صاف ستھری سڑکیں، خوبصورت کیفے، پارکس اور پرسکون زندگی دیکھ کر انسان اپنے ملک کی صرف خامیاں دیکھنے لگتا ہے۔ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ لندن، نیویارک یا پیرس کی تصویر بھی زندگی کا مکمل سچ نہیں۔ وہاں بھی تنہائی، مہنگائی، بے گھری، ذہنی دباؤ، نسلی تعصب، خاندانی دوری اور اپنی جگہ بنانے کی جدوجہد موجود ہے۔

لیکن اس سب کے باوجود ہمیں ان لوگوں کے احساسات کا مذاق بھی نہیں اڑانا چاہیے۔ اگر کوئی شخص واقعی واپسی کے بعد اداسی، بے چینی، چڑچڑے پن، بے خوابی یا زندگی سے بے دلی محسوس کر رہا ہے تو اسے صرف یہ کہہ کر خاموش نہیں کروایا جاسکتا کہ آپ تو بیرون ملک گھوم کر آئے ہیں، آپ کو کیا مسئلہ ہے؟ ذہنی کیفیات، احساسات، دولت، طبقے یا پاسپورٹ سے ہمیشہ نہیں بدلتی۔

شاید اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم بیرون ملک سے واپس آنے والے شخص کو بدلتے ہوئے دیکھ کر یہ نہیں پوچھتے کہ وہ اندر سے کیا محسوس کر رہا ہے۔ ہوسکتا ہے وہ اپنے ملک سے نفرت نہ کر رہا ہو بلکہ وہ اپنے ملک کو ویسا دیکھنا چاہتا ہو، جیسا اس نے دنیا کے کچھ دوسرے معاشروں میں دیکھا۔ اس کی مایوسی دراصل کبھی کبھی محبت کی ایک عجیب شکل بھی ہوتی ہے۔ کتنی عجیب بات ہے نا کہ یہ مایوسی بھی اپنے ملک سے محبت ہی کی دوسری شکل ہے؟

اور شاید اسی لیے پاکستان اور انڈیا کے ایئرپورٹس پر اترتے ہی لگنے والا وہ ’زور کا جھٹکا دھیرے سے‘ صرف گندگی، ٹریفک یا شور کا نہیں ہوتا۔ یہ اس احساسِ محبت کا جھٹکا ہوتا ہے کہ ہم نے دنیا کے ایک بہتر انتظام کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے اور اب اپنے معاشرے کی خامیاں پہلے سے زیادہ صاف دکھائی دے رہی ہیں تو ان خامیوں کو دور کیوں نہیں کیا جاسکتا؟ ووٹ دیتے ہوئے آئندہ یہ سوالات ضرور سامنے رکھیں۔

سوال یہ نہیں کہ بیرون ملک سے واپس آکر لوگ ڈپریشن میں کیوں چلے جاتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ ہم اپنے شہروں، اپنے اداروں، اپنے نظام اور اپنی روزمرہ زندگی کو ایسا کیوں نہیں بنا پاتے کہ واپسی پر اپنے وطن سے دوبارہ مانوس ہونے کے لیے ’ہیلنگ‘ یا ’گریف کوچ‘ کی ضرورت نہ پڑے۔

نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ