اسرائیل فلائی دبئی کی پرواز مار گرانے کے لیے تیار تھا: سی بی ایس نیوز

398931 949675140


اسرائیل فلائی دبئی کی دبئی سے تل ابیب جانے والی اس مسافر پرواز کو مار گرانے کے لیے تیار تھا جس میں 150 سے زائد اسرائیلی سوار تھے، تاہم طیارے کا رخ سعودی عرب کی جانب ہونے کے بعد اسرائیلی لڑاکا طیاروں کو واپس بلا لیا گیا۔

سی بی ایس نیوز نے پیر کو واقعے سے واقف دو اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا۔

اسرائیل میں مسافر طیاروں کے ذریعے نائن الیون طرز کے ممکنہ حملوں سے نمٹنے کے لیے طویل عرصے سے ایک طریقۂ کار موجود ہے، جس کے تحت ملک کی جانب بڑھنے والے بے قابو طیارے کو کسی اہم ہدف سے ٹکرانے سے روکنے کے لیے مار گرایا جا سکتا ہے۔

ایسا فیصلہ بالآخر وزیراعظم کو کرنا ہوتا ہے اور اس قسم کی کارروائی کو ممکنہ طور پر سینکڑوں افراد کی جانیں بچانے کا ایک ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

ذرائع نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ ’اگر کوئی بے قابو طیارہ اسرائیل کی معروف ازریلی عمارتوں، ہوائی اڈے یا کسی دوسرے ’اہم ہدف‘ سے ٹکرا جائے اور اس کے نتیجے میں سینکڑوں افراد مارے جائیں، تو اس کے مقابلے میں مسافر طیارے کو مار گرانا بہتر سمجھا جائے گا۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز اس وقت تقریباً 14 ہزار فٹ نیچے آ گئی جب مبینہ طور پر شریک پائلٹ نے کپتان پر چاقو سے حملہ کیا اور طیارے کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی۔

کاک پٹ سے رابطے کی کوششیں ناکام ہونے کے بعد اسرائیلی لڑاکا طیاروں کو فوری طور پر روانہ کیا گیا اور اسرائیلی فضائی حدود بند کر دی گئیں۔

بعد میں جب مسافر طیارے نے سعودی عرب کا رخ کیا تو اسرائیلی لڑاکا طیاروں کو واپس بلا لیا گیا، جبکہ سعودی عرب نے بھی اپنے لڑاکا طیارے تعینات کیے تھے۔

بالآخر کپتان اور مسافروں نے شریک پائلٹ پر قابو پا لیا، جس کے بعد طیارے نے سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کی۔





Source link

متعلقہ پوسٹ