تصویر: پی ٹی آئی
‘بامبے ہائی کورٹ نے ایس آئی آر کے دوران ووٹروں کے نام ہٹائے جانے کے معاملے پر الیکشن کمیشن کو سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر شہریوں کو ہی باہر کر دیا جاتا ہے تو آپ کی ایس آئی آر کا ہم کیا کریں گے؟ اگر شہریوں کو فہرست سے ہٹایا جا رہا ہے، تو پھر اس پوری ایس آئی آر کارروائی کا مقصد ہی کیا ہے؟‘
نئی دہلی:بامبے ہائی کورٹ کی گوا بنچ نے سوموار، 5 اکتوبر کوایس آئی آرکے دوران ووٹروں کے نام ہٹائے جانے کے معاملے پر الیکشن کمیشن سے سوال کیا ہے۔ عدالت نے زور دے کر کہا کہ تمام اہل شہریوں کے نام حتمی ووٹر لسٹ میں شامل ہو، اس کویقینی بنایا جانا چاہیے۔
لائیو لاء کے مطابق، جسٹس والمیکی اور جسٹس امیت جامسانڈیکر کی بنچ نے الیکشن کمیشن پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے پوچھا،’اگر شہریوں کو ہی باہر کر دیا جاتا ہے تو آپ کےایس آئی آر کا ہم کیا کریں گے؟ اگر شہریوں کے نام فہرست سے ہٹائے جا رہے ہیں تو پھر اس پوری ایس آئی آر کارروائی کا مقصد ہی کیا ہے؟‘
عدالت نے سپریم کورٹ کے ایک پرانے فیصلے کا بھی حوالہ دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اہل شہریوں کے نام حتمی ووٹر لسٹ میں شامل ہوں، اس کو یقینی بنانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے کہا، ’فیصلہ پڑھیے، اس میں کہا گیا ہے کہ یہ یقینی بنانا کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ تمام ہندوستانی شہری فہرست میں شامل ہوں۔‘
عدالت نے مزید کہا،’ایس آئی آرکے ذریعے آپ جو کر رہے ہیں، وہ یہ ہے کہ آپ لوگوں کو صرف مسودہ ووٹر لسٹ سے نہیں بلکہ مؤثر طور پر موجودہ ووٹر لسٹ سے بھی ہٹا رہے ہیں… اب آپ کی دلیل یہ ہے کہ چونکہ ایس آئی آر جاری ہے، اس لیے ہمیں موجودہ ووٹر لسٹ کو نہیں دیکھنا چاہیے اور صرف مسودہ فہرست پر توجہ دینی چاہیے… ہم موجودہ فہرست کو پوری طرح سےنظرانداز نہیں کر سکتے۔‘
اس سے پہلے بھی ہائی کورٹ نے ایس آئی آرسے نمٹنے کے طریقہ کار کو لے کر الیکشن کمیشن کی سخت سرزنش کی تھی۔
ہائی کورٹ نے عبوری حکم جاری کرنے سے انکار کیا
دریں اثنا، ممبئی میں واقع بامبے ہائی کورٹ کی پرنسپل بنچ نے مہاراشٹر میں ایس آئی آر کے تحت ووٹروں کے نام ہٹائے جانے پر روک لگانے سے متعلق عبوری حکم جاری کرنے سے انکار کر دیا۔
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق، چیف جسٹس مہیش چندر ترپاٹھی اور جسٹس ادویت سیٹھنا کی بنچ نے کہا کہ یہ معاملہ پہلے ہی سپریم کورٹ کے سامنے ہے، اس لیے ہائی کورٹ کے لیے اس معاملے پر متوازی کارروائی کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
عدالت ونچت بہوجن اگھاڑی کی یوتھ ونگ کے صدر ساگر رمیش گَوئی کی جانب سے دائر کی گئی عرضی پر سماعت کر رہی تھی۔ ونچت بہوجن اگھاڑی کی بنیاد سابق رکن پارلیامنٹ پرکاش امبیڈکر نے رکھی ہے۔ عرضی میں مہاراشٹر میں ایس آئی آرکے دوران قواعد کی خلاف ورزی اور ووٹروں کو من مانے ڈھنگ سے فہرست سے باہرکیے جانے کا الزام لگایا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق، عرضی میں زیادہ شفافیت یقینی بنانے اور عوامی نمائندگی ایکٹ کی دفعات پر عمل کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا تھا۔
درخواست گزار نے ووٹر لسٹ سے یکطرفہ طور پر نام ہٹائے جانے کی مخالفت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ کسی بھی ووٹر کا نام فہرست سے ہٹانے سے پہلے الیکٹورل رجسٹریشن افسر کے سامنے باقاعدہ سماعت کی جائے اور اس کے بعد حکم جاری کیا جائے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے عدالت میں پیش ہوئے سینئر وکیل آشو توش کمبھ کونی نے بتایا کہ سپریم کورٹ مہاراشٹر اور دیگر ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے متعلق ایس آئی آر کے معاملے پر 8 اکتوبر کو سماعت کرنے والا ہے۔
ہائی کورٹ نے کہا کہ اسی معاملے کی ایک ساتھ جانچ کرنا عدالتی اصول و ضوابط کے منافی ہوگا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹس سے ایس آئی آرکے عمل سے متعلق معاملوں میں متوازی کارروائی نہ کرنے کو کہا ہے۔
درخواست گزار کی جانب سے پیش ہونے والے امبیڈکرنے ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے کے آئندہ عمل پر روک لگانے کے لیے عبوری ہدایات جاری کرنے کی درخواست کی۔ تاہم، ہائی کورٹ نے اس مرحلے پر یہ راحت دینے سے انکار کر دیا۔
معاملے کو تین ہفتے بعد سماعت کے لیے فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

