امریکی فوجیوں کیلئے سخت احکامات جاری بڑی پابندی لگ گئی 

news 1791347893 4728



news 1791347893 4728

(ویب  ڈیسک )جاپان کے جزیرے اوکیناوا میں ایک جاپانی خاتون کی ہلاکت کے کیس میں امریکی میرین پر الزام عائد ہونے کے بعد وہاں تعینات امریکی فوجیوں پر ایک ماہ کے لیے کرفیو اور شراب نوشی کی پابندی عائد کردی گئی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے  کے مطابق 20 سالہ امریکی میرین لانس کارپورل ڈیون جیکب بالارڈ پر الزام ہے کہ اس نے ہفتے کے روز اوکیناوا کے دارالحکومت ناہا کے ایک ہوٹل میں 39 سالہ جاپانی خاتون انا یاگی کو قتل کیا اور ان کا پرس اور بیگ لے گیا۔ پولیس کے مطابق ملزم نے الزامات کی تردید کی ہے۔

واقعے کے بعد اوکیناوا میں تعینات امریکی فوجیوں کو ایک ماہ تک کرفیو کی پابندی کرنے اور شراب نوشی سے گریز کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ امریکی فوج نے نظم و ضبط اور فوجی معیار سے متعلق تربیت بھی شروع کردی ہے۔

امریکی فوجی حکام کے مطابق اوکیناوا میں تمام امریکی فوجی آپریشنز 48 گھنٹے کے لیے روک دیے گئے ہیں، جس دوران اہلکاروں کو نظم و ضبط اور فوجی طرز عمل سے متعلق تربیت دی جائے گی۔

 یہ بھی پڑھیں:ڈھائی لاکھ طلبہ سڑکوں پر آ گئے!سکولوں میں پڑھائی معطل

امریکی فوج کے لیفٹیننٹ جنرل بینجمن واٹسن نے کہا کہ مقامی آبادی کے ساتھ ہر رابطہ اعتماد کو مضبوط یا کمزور کرتا ہے اور اس اعتماد کو نقصان پہنچنے سے امریکا اور جاپان کے اتحاد اور خطے کی سلامتی پر اثر پڑتا ہے۔

جاپانی وزیراعظم سائیں تاکائیچی نے واقعے کو انتہائی سنگین اور قابل مذمت قرار دیتے ہوئے امریکا سے سخت احتجاج کیا اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

جاپانی میڈیا کے مطابق پولیس کو بتایا گیا کہ خاتون کی موت دم گھٹنے کے باعث ہوئی۔ ہوٹل کے عملے نے انہیں ہفتے کی صبح کمرے میں بے ہوش پایا تھا، جب انہوں نے مقررہ وقت پر ہوٹل سے چیک آؤٹ نہیں کیا۔ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے مشتبہ شخص کی تلاش کی، جس میں اسے خاتون کے ساتھ ہوٹل میں داخل ہوتے دیکھا گیا تھا۔

واقعے کے بعد اوکیناوا کے دارالحکومت ناہا اور جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے، مظاہرین نے امریکی فوجی موجودگی اور جنسی تشدد کے خلاف نعرے لگائے۔

اوکیناوا میں امریکی فوجیوں کی موجودگی طویل عرصے سے مقامی آبادی میں تشویش کا باعث رہی ہے۔ شور، فوجی طیاروں کے حادثات اور بعض فوجیوں کے مبینہ جرائم سمیت مختلف واقعات کے باعث جزیرے پر امریکی فوجی موجودگی کے خلاف احتجاج ہوتے رہے ہیں۔

1995 میں تین امریکی فوجیوں پر ایک 12 سالہ اوکیناوی لڑکی کے ساتھ زیادتی کا الزام سامنے آنے کے بعد بھی جزیرے میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے تھے۔

حالیہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب جاپان میں امریکی فوجی موجودگی کے حوالے سے پہلے ہی حساسیت پائی جاتی ہے۔ اوکیناوا کے گورنر گینتا کوجا بھی وزیراعظم سے ملاقات کرکے واقعے کے ردعمل پر بات کریں گے۔

اوکیناوا تائیوان کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے جاپان اور امریکا کے لیے خطے میں دفاعی اعتبار سے اہم سمجھا جاتا ہے۔ جاپان میں موجود امریکی میرینز کی بڑی تعداد اوکیناوا میں تعینات ہے، تاہم مقامی سطح پر طویل عرصے سے ان فوجی اڈوں اور اہلکاروں کی موجودگی پر تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ