جاپان کے جزیرے اوکیناوا میں تعینات امریکی فوج نے ایک میرین اہلکار کی مقامی خاتون کو مبینہ طور پر لوٹنے اور قتل کرنے کے الزام میں گرفتاری کے بعد ایک ماہ کے لیے رات کا کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
جاپان میں امریکی افواج کے اوکیناوا ایریا کوآرڈینیٹر لیفٹیننٹ جنرل بینجمن واٹسن کے مطابق کرفیو جمعے سے نافذ ہوگا اور مقامی وقت کے مطابق رات 12 بجے سے صبح 5 بجے تک رہے گا۔
اس سے قبل اوکیناوا میں امریکی فوجی اہلکار بدھ کی دوپہر سے شروع ہونے والے 48 گھنٹے کے آپریشنل وقفے میں حصہ لیں گے۔ اس دوران انہیں فوجی اڈے سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ اڈے کے اندر یا باہر شراب نوشی پر بھی مکمل پابندی ہوگی۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
لیفٹیننٹ جنرل واٹسن نے کہا کہ مشتبہ قتل کے واقعے کے بعد ان اقدامات کا مقصد امریکی فوجی کمیونٹی میں نظم و ضبط کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
انہوں نے کہا: ’اس طرح کے واقعات کا تقاضا ہے کہ ہم رک کر غور کریں۔ نظم و ضبط انفرادی اور اجتماعی طور پر درست فیصلے کرنے، ایک دوسرے کا خیال رکھنے اور ہمیشہ صحیح کام کرنے کے عزم کا نام ہے۔‘
یہ پابندیاں اوکیناوا میں تعینات 20 سالہ امریکی میرین ڈیوِن جیکب بیلارڈ کی گرفتاری کے بعد عائد کی گئی ہیں۔ جاپانی پولیس کو شبہ ہے کہ اس نے ہفتے کو ناہا کے ایک ہوٹل میں 39 سالہ اینا یاگی کو لوٹنے کے بعد قتل کیا۔
کیوڈو نیوز نے مقامی پولیس کے حوالے سے بتایا کہ خاتون کی لاش ان کے ہوٹل کے کمرے سے ملی اور خدشہ ہے کہ انہیں گلا گھونٹ کر قتل کیا گیا۔
مسٹر بیلارڈ کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب ہفتے ہی کو بعد میں گشت پر مامور ایک پولیس اہلکار نے انہیں اوکیناوا سٹی کے ایک تفریحی علاقے میں پیدل جاتے دیکھا۔ یہ علاقہ ناہا سے تقریباً 25 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔
مشتبہ قتل کے واقعے کے بعد اوکیناوا میں شدید احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ جاپان میں تعینات امریکی فوجیوں کی اکثریت اوکیناوا میں موجود ہے اور یہاں امریکی فوج کی موجودگی کے خلاف طویل عرصے سے مخالفت پائی جاتی ہے۔
احتجاج میں شریک اوکیناوا سٹی کے رہائشی کینجی ہیگا نے کہا: ’یہ سن کر مجھے شدید غصہ اور حیرت ہوئی کہ ایک مشتبہ شخص قتل کرنے کے بعد تفریحی علاقے میں آ گیا۔‘
اس واقعے کے بعد جاپان میں تعینات امریکی فوجی اہلکاروں سے متعلق قانونی انتظامات ایک بار پھر جانچ پڑتال کی زد میں آ گئے ہیں۔
اوکیناوا کے گورنر گینتا کوجا نے بدھ کو ٹوکیو میں وزیر دفاع شنجیرو کوئیزومی سے ملاقات کی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا: ’جب بھی کوئی واقعہ پیش آتا ہے، ہم اسے دوبارہ ہونے سے روکنے کے لیے اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ امریکی فوج میں نظم و ضبط کے نفاذ اور انسانی حقوق سے متعلق تربیت کا نظام بالکل مؤثر ثابت نہیں ہو رہا۔‘
مسٹر کوئیزومی نے کہا کہ حکومت مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات طے کرنے کی غرض سے امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔
دوسری عالمی جنگ کے خاتمے سے 1972 تک اوکیناوا امریکی قبضے میں رہا۔ آج جاپان میں امریکی فوج کی تقریباً 70 فیصد تنصیبات اوکیناوا میں واقع ہیں، جبکہ ملک میں تعینات تقریباً 50 ہزار امریکی فوجیوں کی اکثریت بھی یہیں موجود ہے۔
مشتبہ قتل کے واقعے کے بعد جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائچی نے امریکی حکومت سے شدید احتجاج کیا اور ملک میں تعینات امریکی فوجیوں کے لیے نظم و ضبط مزید سخت کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا: ’اس قدر سفاک اور سنگین واقعے کا پیش آنا انتہائی افسوس ناک ہے۔ جاپانی حکومت امریکی فریق سے سخت احتجاج کرتی ہے اور تحقیقات میں زیادہ سے زیادہ تعاون کا مطالبہ کرتی ہے۔‘

