پاکستان کی تاریخ میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کا مقدس اتحاد تاریخ کا ایک اہم باب بن گیا ہے۔ یہ باب روشن ہے یا تاریک ہے ،اس کا فیصلہ تاریخ میں ہی ہوگا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کا نیا اتحاد سابق وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کے خلاف قائم ہوا۔ پیپلز پارٹی نے 2020ء میں ایک آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی تھی۔ اس کانفرنس میں حزب اختلاف کی مسلم لیگ ن، جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمن گروپ کے علاوہ عوامی نیشنل پارٹی ،محمود خان اچکزئی کی پختون خوا ملی عوامی پارٹی ، نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی نے بھی شرکت کی تھی اور ایک نیا اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ PDM کے نام سے تشکیل دیا گیا۔ پی ڈی ایم کا سربراہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو منتخب کیا گیا۔ پی ڈی ایم نے تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف جلسے، جلوس اور لانگ مارچ کیے۔
پی ڈی ایم کے اجلاسوں میں شرکت کرنے والے نیشنل پارٹی کے ایک رہنما نے بتایا تھا کہ پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمہ کے لیے کئی بار ایک پلان کا ذکر کیا تھا۔ پیپلز پارٹی مارچ 2021ء میں بعض وجوہات کی بناء پر اس اتحاد سے علیحدہ ہوگئی۔ 2022ء کے ابتدائی مہینوں میں اسٹیبلشمنٹ کے ڈھانچے میں کچھ تبدیلیاں رونما ہوئیں اور پیپلز پارٹی اور پی ڈی ایم کی جماعتیں سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے پر متفق ہوگئیں۔ صدر آصف زرداری کی تجویز پر میاں شہباز شریف کو نیا وزیر اعظم منتخب کیا گیا۔ پیپلز پارٹی پی ڈی ایم کی جماعتوں کے ساتھ وفاقی حکومت میں شامل ہوگئی۔ 8 فروری 2024ء کو عام انتخابات میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے امیدوار ایک دوسرے کے مقابل تھے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری لاہور سے قومی اسمبلی کا انتخاب ہار گئے۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے انتخابی دھاندلی کو شکست کی وجہ قرار دیا۔
مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی میں اتفاق رائے ہوا۔ وفاق میں آئینی عہدے یعنی صدرِ مملکت، سینیٹ کے چیئرمین اور قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کے عہدے پیپلز پارٹی کو ملے مگر پیپلز پارٹی حکومت میں شامل نہ ہوئی۔ پیپلز پارٹی کے رہنما سیاسی اختلافات کے باعث پنجاب میں مسلم لیگ ن کی کامیابی کو فارم 47 کی فتح قرار دیتے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں حکومت سے مکمل تعاون کیا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے اپنی دیگر اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر آئین میں 26ویں اور 27ویں ترامیم کیں۔ ان ترامیم کے نتیجے میں وفاقی آئینی عدالت کو سپریم کورٹ پر بالادستی حاصل ہوئی۔ ججوں کے تقرر اور تبادلوں کا نیا نظام قائم ہوا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے مل کر مسلح افواج کے ڈھانچہ میں بھی ردوبدل کرنے کے قانون کی منظوری دی۔ یہ تمام ترامیم پارلیمنٹ نے چند گھنٹوں میں منظور کرلیں۔
صدر آصف علی زرداری کی قیادت میں ایوانِ صدر میں ہونے والے اعلیٰ سطح اجلاس میں جنوبی پنجاب کو سیراب کرنے کے لیے نئی نہروں کی تعمیر کی منظوری دی گئی مگر ان نہروںکے منصوبوں پر اندرونِ سندھ سخت احتجاج شروع ہوگیا۔ جابجا جلسے ہونے لگے۔ وکلاء نے پنجاب جانے والی شاہراہ پر کئی دن تک دھرنا دیا۔ پیپلز پارٹی کے صوبائی وزراء بھی اس مہم میں شامل ہوگئے۔
سندھ کے وزراء نے وزیر اعظم میاں شہباز شریف اور پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کے طرزِ حکومت پر تنقید کی۔ مسلم لیگ ن نے جواب میں سندھ میں کرپشن کے الزامات اور کراچی کی بدحالی کی وڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل کرنا شروع کیں۔ وفاقی حکومت نے نہروں کی تعمیر کا منصوبہ موخر کرنے کا اعلان کیا تو ہی یہ طوفان ختم ہوا۔ اس دوران صحافیوں، سول سوسائٹی اور آزادئ صحافت کے لیے جدوجہد کرنے والی تنظیموں کے احتجاج کے باوجود پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کا قانون منظور کیا۔ صحافیوں کی تمام تنظیموں نے پیکا ایکٹ کو سیاہ قانون قرار دیا مگر دونوں سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے اس احتجاج پر توجہ نہیں دی۔
گلگت بلتستان میں انتخابات کا مرحلہ آیا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن ایک دوسرے کے سامنے کھڑی تھیں۔ دونوں جماعتوں کے رہنما ایک دوسرے پر وہ الزامات لگارہے تھے جو تحریک انصاف کی قیادت ان پر لگاتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے کئی بار اس خدشے کا اظہار کیا کہ مسلم لیگ ن کی انتظامیہ انتخابات میں دھاندلی کرے گی۔ کچھ انتخابی حلقوں میں دھاندلی کی بناء پر پولنگ روک دی گئی۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی اکثریت ختم کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ بہرحال جب گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی تو دونوں جماعتوں کے درمیان سیز فائر ہوا۔ جب آزاد کشمیر میں ایکشن کمیٹی نے کشمیر کی اسمبلی سے پاکستان میں مہاجرین کی 12نشستوں کے خاتمے کی تحریک شروع کی تو پیپلز پارٹی کے رہنما اس تجویز کی حمایت کررہے تھے۔
آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کے آخری وزیر اعظم راجہ فضل ممتاز راٹھور نے ایکشن کمیٹی کے مطالبات سے ہمدردی کا اظہار کیا مگر جب ایکشن کمیٹی کا احتجاج زور پکڑ گیا تو وزیر اعظم شہباز شریف نے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کردی۔ اس کمیٹی نے ایکشن کمیٹی کے مطالبات کو تسلیم نہیں کیا۔ بعض مبصرین کو پیپلز پارٹی کی قیادت کے مؤقف میں اچانک تبدیلی پر حیرت ہوئی تھی۔
بعد ازاں آزاد کشمیر میں انتخابات ہوئے، یہ انتخابات مختلف مراحل میں ہوئے۔ انتخابی تاریخ میں پہلی دفعہ سرکاری ملازمین نے مظفر آباد میں عام انتخابات کے دن سے پہلے ووٹ دیئے مگر مروجہ روایات سے ہٹ کر ہر مرحلے پر انتخابی نتائج کا اعلان ہوا۔ پیپلز پارٹی کی قیادت نے مسلم لیگ ن پر شدید دھاندلی کے الزامات لگائے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما مسلم لیگ ن کے وزراء کو فارم 47کی پیداوار قرار دیتے رہے۔
ابھی یہ ہنگامہ ختم ہی ہوا تھا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے نئے صوبوں کے قیام کا نظریہ پیش کردیا۔ مسلم لیگ ن کے بعض وزراء نے اس تجویز کی بھرپور حمایت کی۔ پیپلز پارٹی نے اس تجویز پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ سندھ اسمبلی میں وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے اعلان کیا کہ قومی اسمبلی کچھ بھی منظور کرے سندھ اسمبلی سندھ کی تقسیم کی تجویز کو مسترد کرتی ہے۔ پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو انتہائی جذباتی ہوگئے اور صوبہ بنانے کی تجویز پر الزام تراشی شروع کر دی۔ بعد میں انھیں باقاعدہ تحریری معافی مانگنی پڑی۔
پیپلز پارٹی کے وزراء نے تجویز پیش کرنے والے مسلم لیگ ن کے وفاقی وزراء کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ جب تحریک انصاف نے اپنے قائد کی رہائی کے لیے لانگ مارچ کا اعلان کیا تو وزیر اعظم شہبازشریف نے تحریک انصاف کے رہنماؤں سے مذاکرات کے لیے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں پر مشتمل ایک وفد ترتیب دیا۔ اس وفد میں سب سے متحرک رکن وزیر داخلہ محسن نقوی تھے۔ محسن نقوی ممکنہ معاہدہ کا مسودہ لے کر ایوانِ صدر گئے اور صدر زرداری کواس مسودہ کے بارے میں بریف کیا اور پھر انھوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کو ساری صورتحال سے آگاہ کیا مگر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے وہ وزراء جو تنقید کرتے تھے اب اس بیانیہ کو ہر چینل پر بیان کررہے ہیں۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پیپلز پارٹی پختون خوا، کشمیر، بلوچستان کے بارے میں پالیسیوں اور حکومت کی اقتصادی پالیسی کے علاوہ خارجہ پالیسی پر بھی متفق ہے۔ مسلم لیگ ن کی ان پالیسیوں پر پیپلز پارٹی کے اتفاقِ رائے کے بعد عوام پیپلز پارٹی کو اس سیاسی ڈھانچہ کا حصہ سمجھتے ہیں۔ اب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے اس اتحاد سے عوام کو کیا فوائد حاصل ہوئے اس کا جواب کون دے گا؟

