صبح تقریباً ساڑھے آٹھ بجے کناٹ پلیس سے ایک شخص کو حراست میں لے جاتی ہوئی پولیس۔(تصویر: جہانوی سین/دی وائر)
صبح دس بجے تک موصولہ خبروں کے مطابق، معروف یوٹیوبر دھرو راٹھی کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ سی جے پی نے بتایا کہ اس کی لیگل ٹیم کی سربراہ رتنا سنگھ کو تین دیگر وکیلوں کے ساتھ حراست میں لیا گیا ہے۔ دہلی پولیس کی جانب سے لوگوں کو حراست میں لینے کا سلسلہ جمعہ کی رات سے جاری ہے۔ اب تک شہر سے کم از کم ایک ہزار لوگ حراست میں لیے جا چکے ہیں۔
نئی دہلی:سنیچر کو دہلی کے جنتر منتر پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے مجوزہ احتجاج کےمدنظر دہلی کو پوری طرح سے بند کر دیا گیا ہے۔ تاہم، مظاہرین وہاں پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
Dhruv Rathee has been detained.
The Dictator is TERRIFIED of young people who question its wrongdoings and refuse to stay silent!
— Cockroach Janta Party – CJP (@Cockroachisback) October 10, 2026
صبح دس بجے تک موصول ہونے والی خبروں کے مطابق، معروف یوٹیوبر دھرو راٹھی کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ سی جے پی نے بتایا کہ اس کی لیگل ٹیم کی سربراہ رتنا سنگھ کو تین دیگر وکیلوں کے ساتھ حراست میں لیا گیا ہے۔
CJP’s legal affairs head Ratna Singh detained! https://t.co/eCFWPZxYXg
— Cockroach Janta Party – CJP (@Cockroachisback) October 10, 2026
تاہم، لوگوں کو حراست میں لینے کا سلسلہ صبح سے نہیں بلکہ جمعہ کی رات سے جاری ہے۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق، اب تک کم از کم ایک ہزار لوگ حراست میں لیے جا چکے ہیں۔ آدھی رات کے قریب، تقریباً 12 بجے، دہلی کے جنوب مشرقی ضلع میں، بالخصوص شاہین باغ کے آس پاس کے علاقوں سے کم از کم 250 لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔
واضح ہو کہ سال 2019 میں یہ علاقہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور قومی شہری رجسٹر (این آر سی) کے خلاف ہونے والے مظاہروں کا مرکز رہا تھا۔
وہیں، خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے سنیچر کی صبح تقریباً ساڑھے نو بجے اطلاع دی کہ دہلی پولیس اب تک 500 لوگوں کو حراست میں لے چکی ہے۔ ایجنسی نے پولیس کے حوالے سے بتایا کہ گروپوں میں آنے والے تقریباً پانچ سو لوگوں کو الگ الگ جگہوں سے حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس نے کہا ہے کہ ’مجرمانہ پس منظر رکھنے والے 50 لوگوں کو بھی اٹھایا گیا ہے تاکہ وہ ماحول خراب نہ کر سکیں۔‘
قابل ذکر ہے کہ اس احتجاج کے پیش نظر نئی دہلی کو 20 زون میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر زون میں ایک ڈٹینشن سینٹر بنایا گیا ہے۔ پولیس نے بتایا، دہلی کے تمام اسٹیڈیم میں بھی ڈٹینشن سینٹر بنائے گئے ہیں۔
دوسری ریاستوں میں بھی مظاہرین کو حراست میں لیا گیا ہے اور انہیں احتجاجی مظاہرہ کے لیے نئی دہلی پہنچنے سے روکنے کے لیے سینکڑوں میل، ایکسپریس اور پسنجر ٹرینیں رد کر دی گئی ہیں۔
دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق، مرکزی وزارت داخلہ نے 9 اکتوبر کو تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حکومتوں سے کہا کہ وہ دہلی پولیس کے ساتھ مل کر کام کریں اور مظاہرین کو قومی راجدھانی کی جانب بڑھنے سے روکنے کے لیے ’احتیاطی اقدامات‘ کریں۔

