تصویر: پی ٹی آئی
نئی دہلی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور ایس آئی آر کے خلاف احتجاج کے بیچ سرکار کو نشانہ بناتے ہوئے کانگریس کے رکن پارلیامنٹ راہل گاندھی نے کہا کہ ان لوگوں کی سب سے بڑی پہچان ہے- بزدلی۔ نریندر مودی، امت شاہ، موہن بھاگوت، گیانیش کمار اور اجیت ڈوبھال – اس کہانی کے ولن – اب دھیرے دھیرے گھرتے جا رہے ہیں … اور ہم پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔
نئی دہلی:چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور ملک کی کئی ریاستوں میں ایس آئی آرکے خلاف بلایا گیا احتجاج، دہلی پولیس کے کڑے بندوبست کے بیچ کئی جگہوں پر جاری ہے۔
جہاں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی)کے ابھیجیت دیپکے، سوربھ داس اور آشوتوش رانکا کے ساتھ پارٹی کی لیگل افیئرز کی چیف رتنا سنگھ کو سنیچر کی صبح ہی حراست میں لے لیا گیا، وہیں دن بھر شہر کے الگ الگ حصوں سے بائیں بازو کی جماعتوں کے رہنماؤں، طلبہ کارکنوں اور وکیلوں کو حراست میں لیے جانے کی خبریں موصول ہوتی رہیں۔
شام ہوتے ہوتے کئی جگہوں سے نوجوان مظاہرین نے دعویٰ کیا کہ ان کے ساتھ مارپیٹ اور بدسلوکی کی گئی ہے۔
اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے پولیس کی اس کارروائی کی سخت تنقید کی ہے۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے رکن پارلیامنٹ راہل گاندھی نے مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا اور کہا کہ وہ نوجوانوں کے ساتھ ہیں۔
I’ve been fighting Narendra Modi and the RSS for over a decade now. I understand them like you would understand your opponent – inside out, like the back of my hand.
The core characteristic of these people is cowardice.
Narendra Modi, Amit Shah, Mohan Bhagwat, Gyanesh Kumar and Ajit Doval, the villains of this story, are slowly finding the space closing around them. We are closing that space.
Mr. Modi, do whatever you want. Call out all the police: 10,000, 20,000, 50,000, whatever you want.
Arrest all the leaders. Arrest all the young people. Arrest us all.
We are surrounding you, and we are not going to back down. Mark my words: we already have the information we need.
We are going to defend our Constitution. We are going to protect the voice of the Indian people. And we are going to ensure that what was done to India over the last 10-15 years will never, ever be done again.
Youth of India, I am proud of you. Keep protesting. We are standing with you.
We are going to ensure that this regime and the people who have attacked our Constitution are defeated.
मैं नरेंद्र मोदी, RSS और इनसे जुड़े लोगों के ख़िलाफ़ एक दशक से भी ज़्यादा समय से लड़ रहा हूँ। मैं अपने विरोधियों को उतनी अच्छी तरह समझता हूँ, जितना कोई भी अपने प्रतिद्वंद्वी को समझता है। मैं इन्हें अंदर तक जानता हूँ, इनकी हर चाल से वाक़िफ़ हूँ।
इन लोगों की सबसे बड़ी पहचान है – कायरता।
नरेंद्र मोदी, अमित शाह, मोहन भागवत, ज्ञानेश कुमार, अजीत डोभाल – इस कहानी के खलनायक – अब धीरे-धीरे घिरते जा रहे हैं। इनके चारों तरफ़ से दायरा सिमट रहा है।
जो करना है, कर लीजिए। जितनी पुलिस बुलानी है, बुला लीजिए – 10 हज़ार, 20 हज़ार, 50 हज़ार, जितनी चाहें बुला लीजिए।
सारे नेताओं को गिरफ़्तार कर लीजिए। सारे युवाओं को गिरफ़्तार कर लीजिए। हम सबको गिरफ़्तार कर लीजिए।
घबराइये मत – हम आपको चारों तरफ़ से घेर रहे हैं, और हम पीछे हटने वाले नहीं हैं।
मेरी बात याद रखिए – हमें जो जानकारी चाहिए, वह हमारे पास पहले से है।हम अपने संविधान की रक्षा करेंगे। हम हिंदुस्तान की जनता की आवाज़ की हिफ़ाज़त करेंगे। और हम यह सुनिश्चित करेंगे कि पिछले 10-15 सालों में हिंदुस्तान के साथ जो हुआ है, वह दोबारा कभी, किसी भी सूरत में न हो।
हिंदुस्तान के युवाओं, मुझे आप पर गर्व है। अपना विरोध जारी रखिए। हम आपके साथ खड़े हैं।
हम यह सुनिश्चित करेंगे कि इस सरकार और हमारे संविधान पर हमला करने वालों को शिकस्त मिले।
— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) October 10, 2026
تقریباً دو منٹ کے بیان میں مودی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے راہل گاندھی کہتے ہیں،’میں نریندر مودی، آر ایس ایس اور ان سے وابستہ لوگوں کے خلاف ایک دہائی سے بھی زیادہ سے لڑ رہا ہوں۔ میں اپنے مخالفین کو اتنی اچھی طرح سمجھتا ہوں، جتنا کوئی بھی اپنے حریف کو سمجھتا ہے۔ میں انہیں اندر تک جانتا ہوں، ان کی ہر چال سے واقف ہوں۔ ان لوگوں کی سب سے بڑی پہچان ہے- بزدلی ۔نریندر مودی، امت شاہ، موہن بھاگوت، گیانیش کمار، اجیت ڈوبھال-اس کہانی کے ولن-اب دھیرے دھیرے گھرتے جا رہے ہیں۔ ان کے چاروں طرف دائرہ سمٹ رہا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا،’جو کرنا ہے، کر لیجیے۔ جتنی پولیس بلانی ہے، بلا لیجیے-10 ہزار، 20 ہزار، 50 ہزار، جتنی چاہیں بلا لیجیے۔ سارے رہنماؤں کو گرفتار کر لیجیے۔ تمام نوجوانوں کو گرفتار کر لیجیے۔ ہم سب کو گرفتار کر لیجیے۔گھبرائیے مت-ہم آپ کو چاروں طرف سے گھیر رہے ہیں اور ہم پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا،’میری بات یاد رکھیے- ہمیں جو جانکاری چاہیے، وہ ہمارے پاس پہلے سے ہے۔ ہم اپنے آئین کی حفاظت کریں گے۔ ہم ہندوستان کے عوام کی آواز کی حفاظت کریں گے۔ اور ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ گزشتہ 10 سے 15 برسوں کے دوران ہندوستان کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے، وہ دوبارہ کبھی، کسی بھی صورت میں نہ ہو۔‘
اپنی بات ختم کرتے ہوئے انہوں نے کہا،’ہندوستان کے نوجوانوں، مجھے آپ پر فخر ہے۔ اپنا احتجاج جاری رکھیے۔ ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ اس حکومت اور ہمارے آئین پر حملہ کرنے والوں کو شکست ہو۔‘
قابل ذکر ہے کہ اس سے پہلے دن میں ایک موقع پر دہلی پولیس نے چار ریاستوں کے سابق وزرائے اعلیٰ-ممتا بنرجی، اروند کیجریوال، مانک سرکار اور پنارائی وجین-کو حراست میں لے لیا تھا۔
اس کے ساتھ ہی آزاد میڈیاآؤٹ لیٹ، مثلاً’اسکرول اورنیوز لانڈری کے صحافیوں کو بھی حراست میں لیا گیا۔ وہیں پولیس نےدی وائرکے صحافیوں-جہانوی سین، انترا برووآ اور انکت راج-کو بھی حراست میں لینے کی کوشش کی۔

