سعودی عرب: ریاض ایئرپورٹ پر حوثی حملوں میں ہلاکتیں 18 ہوگئیں، متعدد ممالک نے سفری انتباہ جاری کیا

hamla 1210 d


ریاض — یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر مسلسل حملوں کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 18 ہو گئی ہے، جبکہ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان اور جنوبی کوریا سمیت متعدد ممالک نے اپنے شہریوں کو سعودی عرب کے سفر سے گریز یا سفری منصوبوں پر نظرثانی کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
سعودی ہوا بازی حکام کے مطابق اتوار کو ہونے والے تازہ حملے میں ایک شخص ہلاک اور 11 زخمی ہوئے۔ جمعہ کو ہونے والے حملے میں 13 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے، جسے ایک دہائی سے زائد عرصے میں سعودی عرب پر ہونے والا سب سے ہلاکت خیز حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ رائٹرز کے مطابق ایک ہفتے کے دوران ریاض ایئرپورٹ پر حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 18 ہو گئی ہے۔
ہندوستانی سفارت خانے نے تصدیق کی ہے کہ 10 اکتوبر کو ہونے والے حملے میں زخمی ایک ہندوستانی شہری زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ تین زخمی ہندوستانی شہری آئی سی یو میں زیرِ علاج ہیں، تاہم ان کی حالت مستحکم ہے، جبکہ دو دیگر افراد عام وارڈ میں داخل ہیں۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے ریاض ایئرپورٹ پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حوثیوں نے دمام کے ہوائی اڈے اور سعودی آرامکو کی دو تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے سعودی عرب کو خبردار کیا کہ کسی بھی حملے کو روکنے میں ناکامی کی ذمہ داری ریاض پر ہوگی۔
سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق حملے اُس وقت ہوئے جب ریاض ایئرپورٹ سے تقریباً 10 کلومیٹر دور ڈبلیو پی سی انرجی کی پانچ روزہ بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہو رہی تھی۔
حملوں کے بعد ریاض کا شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈہ اور دمام کا شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈہ بند رہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں فضائی سفر متاثر ہوا۔ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق اتوار کو جدہ ایئرپورٹ پر 150 سے زائد پروازیں منسوخ اور 374 تاخیر کا شکار ہوئیں۔
آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے اپنے شہریوں کو ریاض کے شاہ خالد ایئرپورٹ جانے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا۔ نیوزی لینڈ نے نجران، جازان اور عسیر کے علاقوں کے سفر سے مکمل پرہیز کی ہدایت جاری کی، جبکہ برطانیہ نے جدہ، دمام اور مدینہ سمیت متعدد مقامات کے سفر سے گریز کا مشورہ دیا ہے۔ امریکہ نے ایران اور حوثیوں کی جانب سے ممکنہ حملوں کے خطرے کے پیش نظر شہریوں کو سعودی عرب کے سفر پر نظرثانی کرنے کا کہا ہے۔

متعلقہ پوسٹ