دہلی پولیس اور وزارت داخلہ کے خلاف سپریم کورٹ پہنچا فری اسپیچ کلیکٹو، توہین عدالت کی عرضی دائر

Delhi Police


بارہ اکتوبر کو راجدھانی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور ایس آئی آر کے خلاف احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لیے مستعد دہلی پولیس۔تصویر: پی ٹی آئی/سلمان علی

سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں کہا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور ایس آئی آر کے خلاف جاری احتجاجی مظاہروں کی کوریج کرنے والے صحافیوں کے کام میں رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیے۔ اب فری اسپیچ کلیکٹو نے توہین عدالت کی عرضی دائر کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتی حکم کے باوجود پولیس نے صحافیوں کو اپنا کام کرنے سے روکا۔

نئی دہلی:فری اسپیچ کلیکٹو نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ دہلی پولیس اور اس کے متعلقہ افسران کو 11 اکتوبر کے عدالتی حکم کی توہین کا قصوروار ٹھہرایا جائے۔

واضح ہو کہ سپریم کورٹ نے اپنے اس حکم میں کہا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اورایس آئی آر کے خلاف جاری احتجاجی مظاہروں کی کوریج کرنے والے صحافیوں کے کام میں رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیے۔ اس معاملے میں مرکزی وزارت داخلہ، دہلی حکومت اور دہلی پولیس کمشنر کو فریق بنایا گیا ہے۔

سوموار(12اکتوبر)کو دائر اس عرضی میں کہا گیا ہے کہ اتوار کو سی جے پی اور بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں کی جانب سے منعقد احتجاج کے دوران صحافیوں کو گردن سے پکڑ کر گھسیٹا گیا، بغیر کسی واضح وجہ کے بسوں میں دھکیلا گیا اور انہیں اپنا کام کرنے سے روکا گیا۔ عرضی کے مطابق، صحافیوں نے جب اپنے پریس شناختی کارڈ دکھائے، تب بھی پولیس نے ان کی بات نہیں سنی۔

صحافی گیتا شیشو کے توسط سے دائر اس عرضی میں کہا گیا ہے، ’اس عدالت نے 10 اکتوبر کو ہدایت دی تھی کہ وکیلوں، صحافیوں اور دیگر پیشہ ور افراد کو ’اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے سے نہیں روکا جائے گا۔‘‘اس کے باوجود دہلی پولیس کے اہلکاروں نے ’آر کے آشرم مارگ، کناٹ پلیس اور دہلی کے دیگر مقامات پر رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو حراست میں لیا، وہاں سے ہٹایا اور دوسرے طریقوں سے ان کے کام میں رکاوٹ ڈالی۔‘

عرضی میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ دہلی حکومت، مرکزی وزارت داخلہ اور دہلی پولیس کے خلاف ’توہین عدالت کی کارروائی شروع کرے۔‘

فری اسپیچ کلیکٹو نے اپنی عرضی میں دی نیوز منٹ، دی ہندو، انڈین ایکسپریس((ہندی)، پیک ٹی وی اور پی ٹی آئی سے وابستہ صحافیوں کی رپورٹوں اور تجربات کا حوالہ دیا ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ صحافیوں کو رپورٹنگ کے دوران حراست میں لیا گیا اور انہیں پولیس کارروائی کو درج کرنے سے روکا گیا۔

اس کے علاوہ، عرضی میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ عدالت کو بتایا جائے کہ اس کی متعلقہ ہدایت ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں تک کس طرح پہنچائی گئی تھی۔ حکم کے بعد صحافیوں کو حراست میں لینے اور وہاں سے ہٹانے کے ذمہ دار افسران کی پہچان کرنے، متعلقہ ریکارڈ محفوظ رکھنے اور جان بوجھ کر عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مناسب کارروائی شروع کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

عرضی میں پی ٹی آئی کے ایک فوٹو جرنلسٹ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے پریس شناختی کارڈ اور کیمرے دکھائے جانے کے باوجود دیگر صحافیوں کو گردن سے پکڑ کر پولیس وین میں گھسیٹا۔ اس میں دیگر صحافیوں کے ساتھ مبینہ طور پر مارپیٹ کرنے اور انہیں زبردستی پولیس بسوں میں لے جانے کا بھی ذکر ہے۔

سپریم کورٹ نے اتوار (11اکتوبر)کو خصوصی سماعت کی تھی۔ اس دوران راجدھانی میں احتجاجی مظاہروں کوسنبھالنے والے افسران کے خلاف توہین عدالت سے متعلق عرضی سمیت کئی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے توہین عدالت کی عرضی پر پولیس کو نوٹس جاری کیا۔ اس عرضی میں الزام لگایا گیا تھا کہ دہلی پولیس اور کچھ انتظامی افسران نے 9 اکتوبر کے اس حکم کو نظرانداز کیا، جس میں شہر میں آمدورفت اور مواصلات پر صرف مناسب پابندیاں لگانے کی ہدایت دی گئی تھی۔

قابل ذکر ہے کہ دہلی پولیس مرکزی وزارت داخلہ کے کنٹرول میں آتی ہے۔ وہیں، 2023میں مودی حکومت کےگورنمنٹ آف نیشنل کیپیٹل ٹیریٹری آف دہلی (ترمیمی) ایکٹ پاس کرنے کے بعد شہری انتظامیہ کے نظام کا کنٹرول بھی مرکزی حکومت کے پاس چلا گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے 9اکتوبر کے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ضروری عوامی ٹرانسپورٹ پر وسیع پیمانے پر اور غیر مناسب پابندیاں نہیں لگائی جا سکتی ہیں۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ دہلی میٹرو کی خدمات مکمل طور پر بند نہیں کی جا سکتیں۔

دس اکتوبر کو اس حکم کی خلاف ورزی اور مظاہرین، راہگیروں اور صحافیوں کو بڑے پیمانے پر حراست میں لیے جانے کے خلاف ایک عرضی دائر کی گئی تھی۔ اس عرضی میں عدالت سے پولیس کو ہدایت دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا کہ وہ حراست میں لیے گئے لوگوں کو سپریم کورٹ کے سامنے پیش کرے۔

اتوار کو سالیسٹر جنرل تشار مہتہ نے سپریم کورٹ کو یقین دہانی کرائی تھی کہ صحافیوں کو احتجاجی مظاہروں کی کوریج کرنے سے نہیں روکا جائے گا۔

عرضی میں گزشتہ تقریباً 18 گھنٹوں کے دوران شائع ہونے والی خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اتوار کو احتجاجی مظاہروں کی رپورٹنگ کر رہے کئی لیگیسی میڈیا اور نئے میڈیا اداروں کے صحافیوں کے ساتھ الگ الگ  طریقوں سے بدسلوکی اور دھکا مکی کی گئی۔



Source link

متعلقہ پوسٹ