امریکی میڈیا نے پیر کو رپورٹ کیا کہ ٹیک ارب پتی ایلون مسک، جو دنیا کے امیر ترین شخص ہیں، نے آئندہ وسط مدتی انتخابات سے قبل دائیں بازو کے امریکی امیدواروں کی مہم کو فروغ دینے والی تنظیموں کو ۲۷۶؍ ملین ڈالر کا تعاون دیا ہے۔ ’نیویارک ٹائمز‘ کے مطابق، جولائی سے دی گئی یہ رقم مسک کو ۳؍ نومبر کے انتخابات کا سب سے بڑا واحد عطیہ دہندہ بنا دیتی ہے۔ انہوں نے اس انتخابی مہم میں کل ۳۶۶؍ ملین ڈالر خرچ کیے ہیں۔
فنڈنگ کا سب سے بڑا وصول کنندہ ریپبلکن کا سینیٹ لیڈرشپ فنڈ ہے، جسے ۱۵۸؍ ملین ڈالر ملے۔ اس فنڈ کا مقصد کانگریس کے ایوانِ بالا پر ریپبلکن پارٹی کا کنٹرول برقرار رکھنا ہے، حالانکہ اسے معمولی اکثریت حاصل ہے۔
مسک نے اس موسمِ گرما میں اپنے امریکہ پی اے سی کو ۷۶؍ ملین ڈالر سے زائد عطیہ دیے، جو مسابقتی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کی نشستوں میں ووٹرز کو نکالنے کی بڑی مہم چلا رہا ہے۔ اس کے علاوہ مسک کے سیاسی عطیات کے دیگر وصول کنندگان میں ریپبلکن کانگریشنل لیڈرشپ فنڈ کو ۲۰؍ ملین ڈالر، ریپبلکن گورنرز ایسوسی ایشن اور لون اسٹار لبرٹی پی اے سی کو ۱۰؍-۱۰؍ ملین ڈالر اور ریپبلکن اٹارنی جنرلز ایسوسی ایشن کو ۲؍ ملین ڈالر شامل ہیں۔
واضح رہے کہ اسپیس ایکس اور ٹیسلا کے مالک امریکی انتخابات میں بڑے پیمانے پر خرچ کرنے سے ناواقف نہیں ہیں۔ انہوں نے ۲۰۲۴ء میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو دوبارہ انتخاب جیتنے میں مدد کے لیے ۲۹۰؍ ملین ڈالر کا تعاون کیا تھا۔
ٹرمپ نے مسک کو کئی مہینوں تک وائٹ ہاؤس میں اپنے لاگت کم کرنے والے محکمۂ حکومتی کارکردگی (ڈوج) منصوبے کی نگرانی کے لیے کام کرنے کی اجازت دی، بعد ازاں صدر کے ساتھ عوامی اختلاف کے بعد انہوں نے یہ کردار چھوڑ دیا۔ تاہم اس کے بعد سے ان میں صلح ہو گئی ہے اور ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے واشنگٹن ڈی سی میں ایک تقریب میں مسک کو نیشنل میڈل آف سائنس سے نوازا۔

