
(ویب ڈیسک)وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون اور سائنسی تحقیق ناگزیر ہے، موسمیاتی تبدیلی سرحدوں کی پابند نہیں، عالمی سطح پر مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔
آئس لینڈ میں آرکٹک سرکل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان گلیشیئرز کے پگھلاؤ، سطح سمندر میں اضافے اور شدید موسمی واقعات سے متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ آرکٹک اور ہمالیائی خطوں کے درمیان تعاون سے گلیشیئرز کے پگھلاؤ کے اثرات سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے سائنس دانوں اور پالیسی سازوں کے درمیان رابطے مضبوط بنانا ضروری ہے، پاکستان موسمیاتی انصاف اور ماحولیات کے تحفظ کے لیے عالمی شراکت داری کا حامی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے حل کے لیے تحقیق، علم اور ٹیکنالوجی تک منصفانہ رسائی ضروری ہے، پاکستان نے عالمی محققین اور طلبہ کے رابطے کے لیے ورچوئل گرین یونیورسٹی کی تجویز بھی پیش کی ہے۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے مزید کہا کہ موسمیاتی ٹیکنالوجی اور ماحول دوست کاروبار کے فروغ کے لیے عالمی سرمایہ کاری اہم ہے، پانی، توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں موسمیاتی سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:مراد سعید کہاں روپوش ہیں؟ رانا ثنا اللہ نے لوکیشن کے بارے میں بتا دیا

