علامتی تصویر، وکی میڈیا کامنس
حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران دہلی پولیس کی کارروائی سے متعلق عرضیوں پر شنوائی کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے صحافیوں کو اپنا کام کرنے کے دوران تحفظ دینے کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی کہا کہ ’اگر ہر کوئی خود کو صحافی بتانے لگے گا تو اس سے مسائل پیدا ہوں گے۔‘
نئی دہلی:ایس آئی آر اور چیف الیکشن کمشنر کے خلاف حالیہ احتجاجی مظاہروں اور ان کے دوران دہلی پولیس کی کارروائی سے متعلق عرضیوں پر شنوائی کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے صحافیوں کو اپنا کام کرنے کے دوران تحفظ دینے کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے۔ تاہم، عدالت نے اس کے ساتھ کچھ شرائط بھی رکھی ہیں۔
دہلی یونین آف جرنلسٹس (ڈی یو جے)، آزاد صحافی پرنجوئے گہا ٹھاکرتا، نیٹ ورک آف ویمن ان میڈیا، انڈیااور دیگر کی جانب سے دائر عرضیوں پرشنوائی کرتے ہوئے چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت نے کہا، ’اگر ہر کوئی خود کو صحافی بتانے لگے گا، تو اس سے مسائل پیدا ہوں گے۔‘
دی ہندو کے مطابق، بنچ میں شامل جسٹس جوائے مالیہ باگچی نے کہا کہ عدالت اس بات کی جانچ کرے گی کہ کیا آزادی اظہار کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص خود کو صحافی بتاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تسلیم شدہ صحافیوں اور رجسٹرڈ میڈیا اداروں کے ساتھ کام کرنے والے صحافیوں کو قانون کے تحت الگ درجے کا تحفظ حاصل ہے۔
سینئر وکیل اندرا جئے سنگھ نے این ڈبلیو ایم آئی کی جانب سے عرضی دائر کی تھی۔ یہ عرضی خصوصی طور پر خاتون صحافیوں کو پولیس کی جانب سے ہراساں کیے جانے کے معاملے سے متعلق تھی۔
بار اینڈ بنچ کی رپورٹ کے مطابق، سالیسٹر جنرل تشار مہتہ نے دلیل دی کہ صحافیوں کی پہچان کرنا لگاتار مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا،’ہمیں نہیں معلوم کہ کون ریل بنانے والا ہے اور کون آزاد صحافی، لیکن کسی بھی خاتون کو ہراساں نہیں کیا جانا چاہیے۔‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ خاتون پولیس اہلکاروں کو بھی ہراساں کیا گیا ہے۔
این ڈبلیو ایم آئی کی درخواست میں ایک آزاد خاتون صحافی کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ صحافی نے الزام لگایا تھا کہ 3 اکتوبر کو احتجاجی مظاہرے کی رپورٹنگ کے دوران اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس (اے سی پی) وویک بھگت نے ان کا جنسی استحصال کیا تھا۔ شکایت درج کرانے اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ پولیس تھانے کے باہر احتجاج کرنے کے باوجود اس معاملے میں کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی تھی۔
اس کے بجائے، بدھ (14 اکتوبر) کو یہ بات سامنے آئی کہ دہلی پولیس نے اے سی پی بھگت کی شکایت کی بنیاد پر صحافی اور دو دیگر افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ بھگت نے الزام لگایا ہے کہ انہیں کاسٹ کی بنیاد پر توہین کا نشانہ بنایا گیا، دھمکیاں دی گئیں اور سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالی گئی۔
سپریم کورٹ نے جمعرات کو کہا کہ خاتون صحافی کے خلاف کوئی بھی تعزیری کارروائی نہیں کی جانی چاہیے۔
وکیل اندرا جئے سنگھ نے مطالبہ کیا کہ خاتون صحافیوں کے ساتھ پولیس کے رویے سے متعلق الزامات کی جانچ کے لیے ایک آزاد کمیٹی تشکیل دی جائے۔ انہوں نے کہا،’وہ اپنا کام کرنے کے لیے احتجاج سے متعلق مقامات پر جاتی ہیں۔ انہیں بدسلوکی کا خصوصی طور پر خطرہ رہتا ہے، بالخصوص مرد پولیس اہلکاروں کی جانب سے۔ کام کی جگہ پر جنسی ہراسانی سے متعلق وشاکھا رہنما اصولوں کے مطابق ایک خاتون سربراہ کی قیادت میں کمیٹی تشکیل دی جائے۔ اس کی سربراہ سپریم کورٹ کی کوئی خاتون جج بھی ہو سکتی ہیں۔‘
چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ پہلی نظر میں عدالت اس تجویز سے متفق ہے۔ انہوں نے جئے سنگھ سے کہا کہ وہ کمیٹی کے لیے ممکنہ نام بند لفافے میں دیں۔
ڈی یو جے کی درخواست میں پولیس کی جانب سے صحافیوں کے فون ضبط کیے جانے کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ سالیسٹر جنرل نے ایسے کسی واقعے سے انکار کیا۔
سماعت کے اختتام پر جسٹس باگچی نے کہا،’صحافیوں کے آلات ضبط کیے جانے سے متعلق دہلی یونین آف جرنلسٹس کی درخواست پر سالیسٹر جنرل نے کہا ہے کہ ایسی کوئی ضبطی نہیں ہوئی۔ ہم نے ان سے کہا ہے کہ وہ اپنے جوابی حلف نامے میں اس بیان کی تصدیق کریں۔‘
جیسا کہ دی وائر نے پہلے بھی اپنی رپورٹوں میں بتایا ہے، 10 اور 11 اکتوبر کو چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ملک کی راجدھانی میں جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران دہلی پولیس نے 30 سے زائد صحافیوں کو حراست میں لیا تھا۔ کئی دیگر صحافیوں نے بھی بتایا کہ انہیں دھمکیاں دی گئیں اور کام کرنے سے روکا گیا۔ کچھ صحافیوں کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ دھکا مکی کی گئی، انہیں تھپڑ مارے گئے اور ان کے فون اور کیمروں سے ویڈیو فوٹیج ڈیلیٹ کرنے کو کہا گیا۔

