’کاکروچ‘ احتجاج میں شرکت پر بالی وڈ اداکار عمران خان کو انڈیا چھوڑنے کا حکم

399187 1871964590


بالی ووڈ اداکار عمران خان کو آئندہ دو ہفتوں کے اندرانڈیا چھوڑنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔

 یہ حکم ممبئی میں ملک کے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے احتجاج کے دوران ان کی حراست کے چند روز بعد سامنے آیا۔

انڈیا کے فارنرز ریجنل رجسٹریشن آفس (ایف آر آر او) نے جمعرات کو عمران خان کو ملک چھوڑنے کا نوٹس جاری کیا۔ حکام نے الزام عائد کیا کہ اداکار نے ہفتے کو ہونے والے مظاہرے میں شرکت کرکے غیر ملکیوں سے متعلق قانون کی خلاف ورزی کی۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

انڈین خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق ممبئی پولیس نے ایک بیان میں کہا: ’نوٹس کے مطابق عمران خان کو 28 اکتوبر تک ملک چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

’عمران خان نے ممبئی کے اگست کرانتی میدان میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کے لیے ہونے والے احتجاج میں شرکت کی تھی۔ مظاہرے کے بعد پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا تھا۔ عمران خان نے انڈین شہری نہ ہونے کے باوجود احتجاج میں حصہ لیا۔

عمران خان، بالی ووڈ اداکار عامر خان کے بھانجے ہیں اور 2008  کی رومانوی کامیڈی فلم ’جانے تو یا جانے نا‘ سے شہرت رکھتے ہیں۔

وہ امریکی شہری ہیں اور ان کے پاس اوورسیز سٹیزن آف انڈیا (او سی آئی) کارڈ ہے، جس کے تحت انڈین نژاد غیر ملکی شہری مخصوص شرائط کے ساتھ انڈیا میں رہائش اختیار کر سکتے ہیں، تاہم اس کارڈ سے انڈین شہریت حاصل نہیں ہوتی۔

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما کریٹ سومیا نے اتوار کو عمران خان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اداکار نے مظاہرے میں شرکت کرکے او سی آئی کارڈ رکھنے والوں پر لاگو قواعد اور ویزے کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں کریٹ سومیا نے لکھا: ’عمران خان کے خلاف غیر قانونی سیاسی احتجاج میں شرکت اور او سی آئی کی دفعات اور ویزے کی شرائط کی خلاف ورزی پر مقدمہ درج کیا جانا چاہیے۔ غیر ملکی شہریوں کو انڈین شہریوں جیسے حقوق حاصل نہیں ہیں۔‘

اگلے روز کریٹ سومیا نے بتایا کہ اداکار کے خلاف کارروائی کے مطالبے کے لیے وہ ممبئی کے ایک پولیس سٹیشن گئے اور ممبئی ہوائی اڈے پر ایف آر آر او کے امیگریشن ڈویژن میں بھی شکایت درج کرائی۔

اوورسیز سٹیزن آف انڈیا (او سی آئی) کارڈ انڈین نژاد اہل غیر ملکی شہریوں کو انڈیا میں رہنے اور کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اس کارڈ کے حامل افراد کو ہر بار انڈیا میں داخل ہونے کے لیے الگ سے ویزے کی درخواست دینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

تاہم او سی آئی کارڈ سے انڈین شہریت نہیں ملتی اور اس کے حامل افراد نہ تو ووٹ ڈال سکتے ہیں اور نہ ہی انتخابات میں امیدوار بن سکتے ہیں۔ وہ انڈین امیگریشن قوانین کے بھی پابند ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ او سی آئی کارڈ رکھنے والوں کو صحافت اور تحقیق سمیت بعض سرگرمیوں کے لیے متعلقہ حکام سے پیشگی اجازت لینا ضروری ہوتی ہے۔

عمران خان ان 400  سے زائد افراد میں شامل تھے جنہیں ممبئی پولیس نے اگست میں کرانتی میدان میں احتجاج کے دوران حراست میں لیا تھا۔

جنوبی ممبئی میں واقع یہ تاریخی مقام 1942 میں برطانوی راج کے خلاف شروع ہونے والی ’انڈیا چھوڑو تحریک‘  سے منسوب ہے۔

عمران خان کی ساتھی اداکارہ لیکھا واشنگٹن اور ان کی کزن زین میری خان کو بھی حراست میں لیا گیا تھا۔

برطانوی اخبار دی انڈپینڈنٹ نے اس معاملے پر عمران خان کا مؤقف جاننے کے لیے ان سے رابطہ کیا ہے۔

یہ احتجاج انڈین الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی فہرستوں کی تصدیق اور انہیں اپ ڈیٹ کرنے کے لیے شروع کی گئی خصوصی جامع نظرثانی (سپیشل انٹینسیو ریویژن، ایس آئی آر) کے خلاف جاری وسیع تر مہم کا حصہ تھا۔

ناقدین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس عمل کے نتیجے میں ووٹ ڈالنے کے اہل شہری بھی انتخابی فہرستوں سے خارج ہو سکتے ہیں۔

حزب اختلاف کی جماعتوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر الزام عائد کیا ہے کہ ان کی نگرانی میں انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے دوران ایسی بے ضابطگیاں ہوئی ہیں جن سے اپوزیشن کے حامی غیر متناسب طور پر متاثر ہوئے جبکہ وزیراعظم نریندر مودی کی حکمران جماعت بی جے پی کو فائدہ پہنچا۔

انتخابی فہرستوں کی تصدیق کے اس عمل کے دوران تقریباً 13 کروڑ ووٹر اندراجات حذف کیے گئے ہیں۔

تاہم انڈین الیکشن کمیشن نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد انتخابی فہرستوں سے دہرے اندراجات اور نااہل ووٹرز کے نام نکالنا ہے۔

نوجوانوں کی قیادت میں قائم دباؤ ڈالنے والے گروپ کاکروچ جنتا پارٹی(سی جے پی) نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے ہفتے کو دہلی اور ممبئی میں مظاہروں کا اہتمام کیا۔

دہلی پولیس نے جنتر منتر کے مقام پر طے شدہ احتجاجی ریلی کو روکنے کے دوران دو ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔

دوسری جانب ممبئی پولیس کے مطابق وہاں ہونے والے مظاہرے کے دوران 400  سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا۔

عمران خان نے کہا کہ انہوں نے ممبئی میں ہونے والے مظاہرے میں کسی سیاسی تنظیم کے نمائندے کی حیثیت سے نہیں بلکہ ذاتی حیثیت میں شرکت کی تھی۔

انڈین اخبار دی انڈین ایکسپریس کے مطابق عمران خان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’میرے کوئی مطالبات نہیں ہیں۔ میں یہاں ایک شہری کی حیثیت سے، اس شہر میں رہنے والے ایک شخص کی حیثیت سے موجود ہوں۔

’میں یہاں یہ جاننے آیا ہوں کہ لوگوں کی نقل و حرکت کی آزادی پر پابندیاں کیوں لگائی جا رہی ہیں؟ لوگوں کی آوازوں کو کیوں دبایا جا رہا ہے؟ اسی لیے میں یہاں موجود ہوں۔‘

عمران خان کو حراست میں لیے جانے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہیں، جن میں انہیں پولیس کی گاڑی میں بٹھاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

بعد ازاں عمران خان نے پولیس کی گاڑی کے اندر اپنی ایک تصویر شیئر کی، جس کے ساتھ لکھا: ’لگتا ہے میں سیر پر جا رہا ہوں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر ہونے والی ایک اور ویڈیو میں عمران خان پولیس اہلکاروں سے اپنی حراست کی وجہ پوچھتے دکھائی دیتے ہیں۔

انڈین خبر رساں ادارے آئی اے این ایس کے مطابق عمران خان نے کہا: ’سچ کہوں تو مجھے بالکل معلوم نہیں کہ مجھے یہاں کیوں لایا گیا ہے۔ انہوں نے ہم سب کو سڑکوں سے اٹھایا اور پولیس کی گاڑیوں میں بیٹھنے کو کہا۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ رہائی سے قبل انہیں اور دیگر افراد کو تقریباً دو گھنٹے تک گاڑی میں مختلف مقامات پر گھمایا جاتا رہا۔

مظاہروں کے دوران حراست میں لیے گئے متعدد افراد نے انڈین میڈیا کو بتایا کہ پولیس اہلکاروں نے انہیں سڑکوں پر گھسیٹا، زبردستی بسوں میں بٹھایا اور منتقلی کے دوران ان پر تشدد کیا۔ مظاہرین کے مطابق پولیس نے انہیں لاٹھیوں سے بھی مارا۔

صحافیوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) کے مطابق دہلی، احمد آباد اور پونے میں کم از کم 37 صحافیوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ متعدد صحافیوں کو رپورٹنگ کے دوران تشدد یا رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔





Source link

متعلقہ پوسٹ