پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی میں پاکستان کے کردار پر ایرانی رکن پارلیمان محسن زنگنہ کے مبینہ اعتراض سے متعلق کہا ہے کہ ان کے بیان کی صداقت اور سیاق و سباق کے بارے میں یقین نہیں، تاہم ایرانی قیادت پاکستان کے ثالثی کردار کی شکر گزار ہے۔
جمعے کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے کہا کہ ایرانی پارلیمان کے ارکان بھی خطے میں پاکستان کے تعمیری کردار کی حمایت کر چکے ہیں اور اسلام آباد امن و استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
ایرانی رکن پارلیمان محسن زنگنہ نے حال ہی میں کابل کے دورے کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان پاکستان کے ثالثی کردار پر سوال اٹھائے تھے۔ انہوں نے مبینہ طور پر یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ ’ان (پاکستانیوں) کی ٹویٹ بھی امریکیوں نے لکھی تھی۔‘
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان تنازعے کے تناظر میں خطے میں امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔
ایرانی قانون ساز کے بیان پر دفتر خارجہ کا ردعمل
ہفتہ وار بریفنگ کے دوران انڈپینڈنٹ اردو نے ترجمان دفتر خارجہ سے ایرانی رکن پارلیمان محسن زنگنہ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی میں اپنے کردار پر اٹھائے گئے اعتراضات کو کس نظر سے دیکھتا ہے، خصوصاً اس مبینہ دعوے کو کہ پاکستانوں کی ٹویٹ بھی امریکیوں نے لکھی تھی؟
اس کے جواب میں سجاد حیدر خان نے کہا کہ خطے میں ایک نہایت اہم وقت پر امن کے قیام میں ایران کی شراکت داری اہم رہی ہے اور پاکستان اس حوالے سے ایران کی کوششوں کو سراہتا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا: ’میں نے یہ بیانات دیکھے ہیں، لیکن مجھے ان کی صداقت اور سیاق و سباق کے بارے میں یقین نہیں ہے۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے، ایرانی قیادت بشمول ایرانی پارلیمان کے ارکان، پاکستان کے ثالثی کردار پر شکر گزار ہیں۔‘
سجاد حیدر خان نے مزید کہا: ’انہوں نے خطے میں پاکستان کے تعمیری کردار کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان امن اور استحکام کے لیے کام کرنے کے اپنے عزم پر قائم ہے۔‘
آذربائیجان میں حجاب پر پابندی کا علم نہیں: دفتر خارجہ
ترجمان دفتر خارجہ نے آذربائیجان کے سرکاری سکولوں میں حجاب سے متعلق پابندی کے معاملے پر کہا کہ انہیں اس اقدام کا علم نہیں ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو نے بریفنگ کے دوران سوال کیا کہ پاکستان افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم اور انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں خواتین کے حقوق کی بات کرتا ہے، تو آذربائیجان میں حجاب پہننے والی طالبات کو درپیش پابندیوں اور ان کے خلاف احتجاج کے بارے میں پاکستان کا کیا مؤقف ہے؟
اس سوال کے جواب میں سجاد حیدر خان نے کہا کہ انہیں آذربائیجان کے اس اقدام سے متعلق ’علم نہیں ہے‘۔
آذربائیجان نے 21 ستمبر کو سرکاری سکولوں کے یونیفارم سے متعلق ضوابط میں ترمیم کی تھی۔ ان ترامیم میں حجاب کا صراحتاً ذکر کیے بغیر ایسے اضافی لباس پر پابندی عائد کی گئی جو مقررہ یونیفارم یا تعلیم کے سیکولر اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
آذربائیجان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی اے کے مطابق ان ترامیم کا مقصد طلبہ کے لیے یکساں ڈریس کوڈ یقینی بنانا ہے، جو ملک کے سیکولر اصولوں کی عکاسی کرتا ہو۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
آذربائیجان کی تقریباً 96 فیصد آبادی خود کو مسلمان کے طور پر شناخت کرتی ہے۔ ملک کا آئین اسے ایک سیکولر ریاست قرار دیتا ہے، تاہم مذہبی آزادی کی ضمانت بھی فراہم کرتا ہے۔
ان ترامیم کے بعد حجاب پہننے والی طالبات کو سکولوں میں داخلے سے روکے جانے کے خلاف احتجاج بھی سامنے آئے ہیں۔
سعودی عرب کے دفاع سے متعلق مکہ معاہدے کی ذمہ داریاں نبھائیں گے
ترجمان دفتر خارجہ نے سعودی عرب پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا رکن ہونے کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں نبھائے گا۔
سجاد حیدر خان کے مطابق ’مکہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور پاکستان اس معاہدے پر مکمل طور پر آن بورڈ ہے۔‘
انہوں نے واضح کیا کہ معاہدے کے عملی اور فوجی پہلوؤں سے متعلق مزید تفصیلات آئی ایس پی آر اور ریاض میں قائم ہیڈکوارٹر فراہم کر سکتے ہیں۔
یمن کا مسئلہ صرف مذاکرات سے حل ہو سکتا ہے
یمن کی صورتحال پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف مسلسل اور واضح ہے اور اسلام آباد سمجھتا ہے کہ یمن کے مسئلے کا حل صرف مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے یمن میں ایک پاکستانی ڈرائیور جان سے گیا، جبکہ ریاض ایئرپورٹ پر حملے میں بھی ایک پاکستانی جان سے گیا اور تین زخمی ہوئے۔
ترجمان نے کہا کہ ملک میں امن و امان برقرار رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
فلسطینیوں کی وطن واپسی میں رکاوٹوں کی مذمت
فلسطین کے معاملے پر سجاد حیدر خان نے کہا کہ پاکستان فلسطینیوں کی وطن واپسی میں رکاوٹ ڈالنے کی مذمت کرتا ہے اور فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت کی حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے انڈیا کے پانچ اگست کے اقدامات کو غیر قانونی اور یک طرفہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر آج بھی اقوام متحدہ میں ایک متنازع معاملہ ہے۔

