واشنگٹن — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف وینزویلا کی طرز پر مکمل بحری ناکہ بندی کا منصوبہ تیار کرلیا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس نے آبنائے ہرمز سمیت تمام اہم تجارتی سمندری راستوں پر ایران کے خلاف دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی حتمی شکل دے دی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ بحری ناکہ بندی صرف تیل کی برآمدات تک محدود نہیں ہوگی بلکہ ایران کی تمام تجارت کو مکمل طور پر روک دیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد تہران کو معاشی طور پر مفلوج کرکے جوہری مذاکرات میں ایران کو مزید مراعات دینے پر مجبور کرنا ہے۔
امریکی دفاعی ذرائع نے بتایا کہ بحری ناکہ بندی کے لیے خلیجِ فارس اور بحرِ عرب میں اضافی جنگی بیڑے تعینات کیے جائیں گے۔ اس منصوبے میں اتحادی ممالک کو بھی شامل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ عملی جامہ پہنا تو عالمی تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ آبنائے ہرمز سے دنیا کی تیل فراہمی کا بیس فیصد گزرتا ہے۔ خطے میں کشیدگی میں اضافے کے پیشِ نظر عالمی منڈیاں پہلے ہی بے چینی کا شکار ہیں۔

