آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش پاکستان کی 90 فیصد توانائی داؤ پر، معاشی بحران کا خطرہ

hormuz


اسلام آباد: ایران اور امریکہ کے درمیان جاری فوجی تصادم نے آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے خدشات کو حقیقت کے قریب تر کر دیا ہے، جس سے پاکستان سمیت پوری دنیا کی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
پاکستان اپنی ضرورت کا 90 فیصد تیل اور ایل این جی (LNG) اسی آبی گزرگاہ کے ذریعے حاصل کرتا ہے۔ اس تنگ آبی راستے سے دنیا بھر میں روزانہ تقریباً 20 ملین بیرل خام تیل گزرتا ہے، جو عالمی یومیہ کھپت کا 20 فیصد بنتا ہے۔ کسی بھی رکاوٹ کی صورت میں عالمی توانائی منڈیوں میں ہنگامہ برپا ہو سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے صورتحال اس لیے مزید تشویشناک ہے کہ ملک کی 95 فیصد غیر ملکی تجارت بحیرہ عرب سے جڑی ہوئی ہے، جبکہ ملکی توانائی کے موجودہ ذخائر صرف ایک ماہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں۔
ماہرینِ معیشت کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کی صورت میں پاکستان میں پیٹرول، ڈیزل اور بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ناگزیر ہوگا، جس سے زرعی اور صنعتی سرگرمیاں سست پڑ جائیں گی۔ اس بحران کے نتیجے میں ملک پہلے سے موجود مہنگائی، غربت اور ادائیگیوں کے توازن کے بحران میں مزید دھنس سکتا ہے۔
حکومتی حلقوں میں توانائی کے متبادل ذرائع اور ہنگامی ذخائر بڑھانے پر غور شروع ہو گیا ہے، تاہم قلیل مدت میں کوئی فوری حل دستیاب نہ ہونے کے باعث صورتحال انتہائی نازک قرار دی جا رہی ہے۔

متعلقہ پوسٹ