کاکروچ جنتا پارٹی کے رہنما سوربھ داس اور آشوتوش رانکا ۔(تصویر: پی ٹی آئی/سلمان علی)
تہاڑ جیل میں سی جے پی رہنماؤں آشوتوش رانکا اور سوربھ داس کو الگ الگ ہائی-سکیورٹی وارڈوں میں رکھا گیا ہے۔ جیل انتظامیہ نے ان کی نگرانی بڑھائی ہے۔ دونوں کو جنتر منتر میں بغیر اجازت داخل ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
نئی دہلی: جنتر منتر میں بغیر اجازت داخل ہونے کے الزام میں گرفتار کیے گئے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے رہنما آشوتوش رانکا اور سوربھ داس کو دہلی کی تہاڑ جیل میں الگ الگ ہائی-سکیورٹی وارڈوں میں رکھا گیا ہے۔ جنتر منتر کو اس ہفتےاحتجاج کے مقررہ مقام کی فہرست سے ہٹا دیا گیا ہے۔
دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، جیل انتظامیہ نے ان کی کوٹھریوں کے باہر اضافی سکیورٹی اہلکار تعینات کیے ہیں اور ہدایت دی ہے کہ دن کے وقت انہیں دوسرے قیدیوں کے ساتھ باہر نہ نکالا جائے۔
دہلی پولیس نے کہا کہ دونوں کو 14 اکتوبر کو مبینہ طور پر بار بار عوامی امن و امان میں خلل ڈالنے اور قانون کی خلاف ورزی کی کوشش کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق، قانون کی بار بار خلاف ورزی اور اس خدشے کی وجہ سے کہ ضمانت پر رہا ہونے کے بعد وہ دوبارہ قانون توڑیں گے اور دوسروں کو اکسائیں گے، انہیں پانچ دن کی عدالتی حراست میں تہاڑ جیل بھیجا گیا ہے۔
اخبار کے مطابق، جیل کے ریکارڈ میں رانکا کا قیدی نمبر 1784 اور داس کا قیدی نمبر 3752 ہے۔ شروعات میں دونوں کو جیل نمبر 2 میں رکھا گیا تھا، لیکن بعد میں رانکا کو جیل نمبر 4 منتقل کر دیا گیا۔
جیل کے احاطے کے دیگر حصوں کے مقابلے میں جن بلاکوں میں انہیں رکھاگیا ہے، وہاں قیدیوں کی تعداد کم ہے۔
اخبار نے تہاڑ جیل کے ایک ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے،’دونوں کو الگ الگ وارڈوں میں رکھا گیا ہے۔ دوسرے وارڈوں کے کسی بھی قیدی کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ ان کی ہر سرگرمی پر نظر رکھنے کے لیے کوٹھریوں میں سی سی ٹی وی کیمرے لگائے گئے ہیں اور خودکشی کے خدشے کے پیش نظر ان کی چوبیس گھنٹے نگرانی کی جا رہی ہے۔‘
داس کو جیل نمبر 2 میں رکھا گیا ہے۔ اسی جیل میں دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کو بھی پہلے رکھا گیا تھا۔ جے این یو کے سابق طالبعلم عمر خالد بھی فی الحال اسی جیل میں ہیں، تاہم انہیں ایک الگ ہائی-رسک سیل میں رکھا گیا ہے۔
اخبار کو ایک ذرائع نے بتایا کہ دونوں میں سے کسی نے بھی کوئی خاص درخواست نہیں کی ہے۔ تاہم، ان میں سے ایک نے زبانی طور پر جیل انتظامیہ سے ایک دوسرے قیدی سے ملاقات کرانے کی درخواست کی تھی، جسے مسترد کر دیا گیا۔
دریں اثنا، سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے کو آج مندر مارگ تھانے کے اسپیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ سی جے پی کی اپیل پر جمعہ کو کناٹ پلیس میں ہوئے ’لہرا دو ترنگا مارچ‘کے دوران دیپکے کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔

