حنا جاوید قتل کیس: اہل خانہ کا پولیس تحقیقات پر عدم اطمینان

399229 1083131099


راولپنڈی کے علاقے لال کرتی میں واقع اپنے اپارٹمنٹ کے باتھ روم میں مردہ پائی گئیں حنا جاوید کے اہل خانہ نے سپیشل کمیٹی کی تحقیقات اور پولیس کے نتائج پرعدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔

اہل خانہ نے پولیس کی اعلیٰ سطحی تحقیقاتی رپورٹ مسترد کر دی ہے جس میں خاتون کے شوہر کے خلاف کوئی ثبوت نہ ملنے کا نتیجہ اخذ کرتے ہوئے قتل کا ذمہ دار ایک گھریلو ملازم کو قرار دیا گیا تھا۔

ہفتے کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس اور انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں حنا جاوید کے بھائی فہد جاوید نے کہا کہ ان کا خاندان پولیس کی تحقیقاتی رپورٹ مسترد کرتا ہے اور قتل کے اصل حقائق سامنے لانے کے لیے عدالتی کمیشن کی تشکیل چاہتا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

45 سالہ حنا جاوید 20 اگست کو راولپنڈی کے علاقے لال کرتی میں واقع اپنے اپارٹمنٹ میں مردہ پائی گئی تھیں۔ اہل خانہ نے ان کے شوہر فیصل اصغر امام، سسر اصغر علی فیاض اور گھریلو ملازم ذیشان ارشد پر قتل میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔

تاہم وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر ہونے والی نئی تحقیقات میں گھریلو ملازم ذیشان ارشد کو قتل کا ذمہ دار قرار دیا گیا، جبکہ تحقیقاتی ٹیم کے مطابق مقتولہ کے شوہر کے خلاف جرم میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

پولیس کی اس رپورٹ کے بعد مقتولہ کے اہل خانہ اور تحقیقاتی ٹیم کے مؤقف میں اختلاف سامنے آیا ہے۔

خاندان فرانزک شواہد کی مکمل تفصیلات اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کر رہا ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ اس کے نتائج دستیاب شواہد کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’فیصل کو ملزم کے بجائے مہمان سمجھا گیا‘

فہد جاوید نے الزام عائد کیا کہ پولیس اور خصوصی تحقیقاتی کمیٹی نے ابتدا ہی سے اپنی توجہ گھریلو ملازم ذیشان ارشد پر مرکوز رکھی اور مقتولہ کے شوہر کے کردار کی مناسب جانچ پڑتال نہیں کی۔

انہوں نے کہا ’پہلے دن سے ہی تحقیقاتی ٹیم، پولیس اور خصوصی کمیٹی نے فیصل اصغر کے ساتھ ملزم کے بجائے مہمان جیسا سلوک کیا۔‘

ان کے مطابق ’پہلے دن سے ایسا لگ رہا تھا کہ ان کا مقصد سارا الزام ذیشان پر ڈال کر فیصل کو بری الذمہ قرار دلوانا تھا۔‘

فہد جاوید نے وزیراعظم، وزیراعلیٰ پنجاب اور آرمی چیف سے اپیل کی کہ ان کی بہن کے قتل کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل انکوائری کمیشن تشکیل دیا جائے۔

انہوں نے کہا ’ہم ان نتائج کو مسترد کرتے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر عدالتی کمیشن تشکیل دیا جائے اور میری بہن کو انصاف فراہم کیا جائے۔‘

ڈی این اے شواہد پر اہل خانہ کے اعتراضات

فہد جاوید نے فرانزک شواہد کے حوالے سے سوال اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ فیصل اصغر امام کا ڈی این اے چار مقامات سے ملا ہے، اس کے باوجود تحقیقاتی ٹیم نے انہیں قتل میں ملوث نہیں پایا۔

انہوں نے کہا ’فنگر پرنٹس، موبائل فون، لیپ ٹاپ اور فرانزک کی مکمل رپورٹس ہمیں فراہم کی جائیں۔ فیصل کا ڈی این اے چار مقامات سے ملا ہے۔ ان کا نام چالان میں شامل کیا جانا چاہیے۔‘

دوسری جانب تحقیقاتی ٹیم کے مطابق گھریلو ملازم ذیشان ارشد کا ڈی این اے مقتولہ کے جسم سے لیے گئے نمونوں اور اپارٹمنٹ سے حاصل ہونے والی اشیا سمیت 15 اشیا اور نمونوں پر پایا گیا۔

تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ فیصل اصغر امام کا ڈی این اے بھی بیڈ روم کے دروازے کے تالے کے بعض حصوں سے ملا، تاہم یہ پہلے کسی وقت تالے کو چھونے کے باعث موجود ہو سکتا ہے اور اس سے قتل میں ان کی شمولیت ثابت نہیں ہوتی۔

فہد جاوید نے فیصل اصغر امام کے والد کو بھی تحقیقات میں شامل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ قتل سے متعلق ان کے بیان کی مکمل جانچ پڑتال کیوں نہیں کی گئی۔

’قتل کو ڈکیتی کا رنگ دیا گیا‘

فہد جاوید نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ان کی بہن کو 19 اگست کی رات قتل کیا گیا تھا، جبکہ اگلی صبح ان کی میت گھر کے باتھ روم سے ملی۔

ان کے مطابق اہل خانہ کو ابتدائی طور پر بتایا گیا تھا کہ دو نامعلوم افراد ڈکیتی کی نیت سے گھر میں داخل ہوئے تھے، لیکن وہ اس وضاحت سے مطمئن نہیں تھے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ قتل کو ڈکیتی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی اور واقعے کے بعض اہم پہلوؤں کی مناسب تحقیقات نہیں ہوئیں۔

فہد جاوید نے کہا کہ انہوں نے اپنی بہن کی تدفین خود کی تھی اور اس واقعے کی یادیں آج بھی ان کے لیے شدید تکلیف کا باعث ہیں۔

ان کے مطابق مقتولہ کے جسم پر تشدد کے آثار اور جائے وقوعہ کے حالات سے کئی ایسے سوالات پیدا ہوتے ہیں جن کے جواب تحقیقاتی رپورٹ میں نہیں ملے۔

خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے نتائج کیا ہیں؟

حنا جاوید کے اہل خانہ کی جانب سے ابتدائی پولیس تحقیقات پر اعتراضات کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔

اس ٹیم کی سربراہی پنجاب کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے ڈائریکٹر جنرل اور ایڈیشنل انسپکٹر جنرل سہیل ظفر چٹھہ نے کی۔

سہیل ظفر چٹھہ نے جمعے کو عرب نیوز کو بتایا کہ فرانزک شواہد کی بنیاد پر تحقیقاتی ٹیم اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ حنا جاوید کو ذیشان ارشد نے قتل کیا۔

انہوں نے کہا کہ فیصل اصغر امام دماغ کے کینسر میں مبتلا ہیں اور ان کی جسمانی حالت ایسی تھی کہ ان کے لیے اس جرم کا ارتکاب کرنا مشکل تھا۔

چٹھہ نے اپنے مؤقف کی تائید میں میاں بیوی کے درمیان کسی سابقہ تنازعے کے شواہد نہ ملنے، موبائل فون کے تجزیے اور ان تحقیقاتی نتائج کا حوالہ دیا جن کے مطابق قتل کے وقت فیصل اصغر امام اپارٹمنٹ میں موجود نہیں تھے۔

انہوں نے کہا ’ہمارے سامنے موجود شواہد کی بنیاد پر میرا خیال ہے کہ شوہر بھی اس معاملے میں ایک متاثرہ فریق ہے۔‘

سہیل ظفر چٹھہ کے مطابق تحقیقاتی ٹیم نے مقدمے کے تمام دستیاب شواہد اور ڈی این اے رپورٹس کا جائزہ لیا جبکہ گرفتار افراد سے اڈیالہ جیل میں متعدد مرتبہ کئی گھنٹے تفتیش بھی کی گئی۔

فیصل اصغر امام اور ذیشان ارشد دونوں جوڈیشل ریمانڈ پر راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہیں۔

مقتولہ کے اہل خانہ کا مؤقف ہے کہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ ان کے تحفظات دور نہیں کر سکی اور وہ عدالتی کمیشن کے ذریعے قتل کی آزادانہ تحقیقات چاہتے ہیں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ