سپریم کورٹ، فوٹو: پی ٹی آئی
اسلام قبول کرنے والا شخص مذہب تبدیل کرنے سے پہلے اپنی ذات یا برادری کی حیثیت کی بنیاد پر پسماندہ طبقے کے ریزرویشن کا دعویٰ نہیں کر سکتا – مدراس ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ ہندو، سکھ یا بدھ مت کے علاوہ کسی دوسرے مذہب کو ماننے والے لوگوں کو آئین (شیڈولڈ کاسٹ) آرڈر کے تحت درج فہرست ذات کا رکن نہیں مانا جا سکتا۔
نئی دہلی:سپریم کورٹ نے جمعرات (15اکتوبر)کو مدراس ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو برقرار رکھا، جس میں کہا گیا تھا کہ اسلام قبول کرنے والا شخص مذہب تبدیل کرنے سے پہلے اپنی ذات یا برادری کی حیثیت کی بنیاد پر پسماندہ طبقے کے ریزرویشن کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔
جسٹس پرشانت کمار مشرا اور جسٹس شری چندر شیکھر کی بنچ نے تمل ناڈو حکومت کی اس عرضی کو خارج کر دیا، جس میں ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے نتیجے میں سال 2024 کے اس سرکاری آرڈر کو ردکر دیا گیا تھا، جس کے تحت اسلام قبول کرنے والے کچھ لوگوں کو ریاست کی ’پسماندہ طبقہ(مسلم)‘برادریوں کی فہرست میں شامل مانا جا رہا تھا۔
جمعرات کو سنائے گئے اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا کہ محض مذہب تبدیل کرنے کی بنیاد پر کسی شخص کو تمل ناڈو کے تمل ناڈو پسماندہ طبقات، درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل(تعلیمی اداروں میں سیٹوں اور ریاست کے ماتحت خدمات میں تقرریوں یا عہدوں کے لیے ریزرویشن)ایکٹ، 1993 کے تحت پسماندہ طبقے کے طور پر نوٹیفائی سات مسلم برادریوں میں سے کسی کا رکن نہیں مانا جا سکتا۔
مذہب تبدیل کرنے سے پہلے کی سماجی حیثیت ریزرویشن کی بنیاد نہیں
لائیو لا کی رپورٹ کے مطابق، عدالت نے کہا کہ جو شخص کسی غیر ہندو سماجی نظامیں چلا جاتا ہے، وہ آئین کے آرٹیکل 16(4) کے تحت ملنے والے ریزرویشن کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ ایسا اس وقت بھی ہے، جب مذہب تبدیل کرنے سے پہلے اس کی سماجی حیثیت کے ساتھ کوئی سماجی پسماندگی وابستہ رہی ہو۔
عدالت نے کہا،’اس طرح کی تبدیلی اس قانونی بنیاد کو ختم کر دیتی ہے، جو ہندو سماجی نظام کا رکن ہونے کی صورت میں ہی حاصل ہوتی ہے۔‘
عدالت نے مزید کہا کہ ایک سماجی نظام میں تاریخی طور پر موجود سماجی، معاشی یا سیاسی محرومیوں کو مذہب تبدیل کرنے کے بعد دوسرے سماجی نظام میں اسی طرح کی درجہ بندی کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ریاستی قانون کے تحت نوٹیفائی سات مسلم برادریاں اسلام کے اندر سنی یا شیعہ برادریوں جیسی مذہبی شاخیں نہیں ہیں۔
لائیو لا کے مطابق، بنچ نے کہا،’مذہب تبدیل کرنے سے پہلے کسی شخص کی حیثیت کی بنیاد بننے والی سماجی پسماندگی بذات خود مذہب تبدیل کرنے کے بعد کسی دوسری نوٹیفائی شدہ پسماندہ برادری کی رکنیت فراہم کرنے کی قانونی بنیاد نہیں بن سکتی۔‘
دوبارہ ہندو مذہب اختیار کرنے پر اہلیت کا پھر سے جائزہ لیا جا سکتا ہے
درج فہرست ذات کی حیثیت سے متعلق آئینی دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ ہندو، سکھ یا بدھ مت کے علاوہ کسی دوسرے مذہب کو ماننے والوں کو آئین (شیڈولڈ کاسٹ) آرڈر کے تحت درج فہرست ذات کا رکن نہیں مانا جا سکتا۔
عدالت نے کہا،’اگر کوئی شخص ایسے مذہب کو اختیار کر لیتا ہے جس کا ذکر اس آرڈر میں نہیں ہے، تو اس کی درج فہرست ذات کی حیثیت ختم ہو جاتی ہے۔ ایسی صورت میں وہ آرٹیکل 16(4) کے تحت ملنے والے ان فوائد یا خصوصی انتظامات کا دعویٰ نہیں کر سکتا، جو درج فہرست ذات کا رکن ہونے کی بنیاد پر حاصل ہوتے ہیں۔‘
تاہم، بنچ نے فیصلہ سنایا کہ اگر کوئی شخص دوبارہ ہندو مذہب اختیار کرتا ہے، تو مثبت اقدامات یعنی ریزرویشن کے لیے اس کی اہلیت کا آزادانہ طور پر اور معاملے کے مخصوص حقائق کی بنیاد پر پھر سے جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
اس جائزے میں یہ جانچ کی جائے گی کہ مذہب میں واپسی کے بعد اس کی ’اصل ذات یا سماجی شناخت حقیقت میں دوبارہ بحال ہوئی ہے یا نہیں‘اور کیا وہ متعلقہ قانونی شرائط پوری کرتا ہے۔
عدالت نے ماضی کے عدالتی فیصلوں کا بھی حوالہ دیا۔ ان میں چنتاڈا آنند بنام ریاست آندھرا پردیش کا معاملہ شامل ہے، جس میں اسلام یا عیسائیت اختیار کرنے کے بعد ایک شخص نے اپنی درج فہرست ذات کی حیثیت کھو دی تھی۔
کیا تھا معاملہ؟
موجودہ شنوائی کی شروعات 2015میں سمیر احمد کی جانب سے دائر کی گئی عرضی سے ہوئی تھی۔ اسی سال انہوں نے ہندو مذہب کوچھوڑ کر اسلام قبول کر لیا تھا۔ لائیو لا کی رپورٹ کے مطابق، ان کے تبدیلی مذہب کے سلسلے میں 2016میں گزٹ نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے اسلامی عقائدکے مطابق شادی کی اور ان کے دو بچے ہوئے۔
احمد نے ایسا کمیونٹی سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے درخواست دی، جس میں انہیں مسلم لیبائی برادری کا رکن بتایا جائے۔ یہ تمل ناڈو میں نوٹیفائی سات پسماندہ مسلم برادریوں میں سے ایک ہے۔ دیگر چھ برادریاں ہیں – انصار، دکنی مسلم، دوبیکلا، ماپیلا، شیخ اور سید ۔
تحصیل دار نے ان کی درخواست مسترد کر دی۔ اس کے بعد احمد نے مدراس ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور تمل ناڈو کے محکمہ پسماندہ طبقات، انتہائی پسماندہ طبقات اور اقلیتی بہبود کی جانب سے 9مارچ 2024 کو جاری کیے گئے سرکاری حکم کا حوالہ دیا۔
تاہم، ہائی کورٹ نے اس حکم کو غیر آئینی قرار دیا۔ عدالت نے کہا کہ یہ ان عدالتی فیصلوں کے مطابق نہیں ہے، جن میں واضح کیا گیا ہے کہ اسلام قبول کرنے سے کسی شخص کو بذات خود کسی مخصوص مسلم برادری کی رکنیت حاصل نہیں ہو جاتی۔
سپریم کورٹ کے اس تازہ فیصلے نے ہائی کورٹ کے اسی نظریے کو برقرار رکھا ہے۔ اس کے نتیجے میں ان حاشیے پر موجود برادریوں کے ان لوگوں کے لیے مذہب تبدیل کرنے کے بعد ریزرویشن کا فائدہ حاصل کرنا ممکن نہیں رہ جاتا، جو ہندو مذہب میں رہتے ہوئے اس طرح کے فائدے کے اہل تھے۔

