آئیے جانتے ہیں کہ بی جے پی کے دلائل غلط کیوں ہیں

IMG 3246 1


السٹریشن: پری پلب چکرورتی / دی وائر

اپوزیشن مودی کو اقتدار میں بنائے رکھنے کی پابند نہیں ہے۔ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو انہیں اقتدار سے ہٹانے کا ایک قانونی راستہ دکھائے۔ بی جے پی جمہوری طریقے سے اقتدار کی تبدیلی کی اس خواہش کو ہندوستان کے خلاف جرم قرار دے کر اس سے دامن نہیں بچا سکتی۔

اس ہفتے کی شروعات میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وکیل پرشانت بھوشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے ذریعے ایس آئی آر کے تحت ووٹر لسٹ میں مبینہ ہیر پھیر کے خلاف ہو رہے احتجاجی مظاہرے’حقیقت میں رجیم چینج (اقتدار کی تبدیلی)کی لڑائی‘ بن گئے ہیں، اور یہ شہریوں کا جمہوری حق ہے۔ بغاوت (سیڈیشن)کے معاملے میں سپریم کورٹ کے تبصروں کے مطابق، تشدد یا عوامی بدامنی کے بغیر کسی حکومت کے تئیں ’عدم اطمینان‘ پیدا کرنا جرم نہیں ہے۔

بی جے پی کے سینئر رہنماؤں، جن میں راج ناتھ سنگھ، نتن نوین، سمبت پاترا اور دیگر شامل ہیں، نے الزام لگایا کہ اس سے اپوزیشن کا سڑکوں پر افراتفری پھیلانے کا ایجنڈا، بنگلہ دیش جیسی بدامنی، غیر ملکی طاقتوں کے ساتھ ملی بھگت یا ’انتشار پیدا کرکے اقتدار پر قبضہ کرنے کی سازش‘ بے نقاب ہوتی ہے۔

اپوزیشن کی جانب سے ’رجیم چینج‘ کے مطالبے کو ملک مخالف، غیر آئینی یا جمہوریت کے لیے خطرہ قرار دینے کی حکمراں بی جے پی کی دلیل بنیادی طور پر غلط، فکری طور پر بددیانتی پر مبنی اور تاریخی اعتبار سے منافقانہ ہے۔

رجیم چینج کا مطالبہ جمہوریت کی خلاف ورزی نہیں، بلکہ اس کا بنیادی مقصد ہے۔

بی جے پی غلط ہے، کیونکہ مودی کو اقتدار سے ہٹانے کی خواہش رکھنے کا مطلب ہندوستان کو غیر مستحکم کرنا نہیں ہے۔ اس کا یہ استدلال منافقانہ بھی ہے، کیونکہ کانگریس کے دورحکومت میں بی جے پی اور آر ایس ایس کے رہنماؤں نے کھلے عام سیاسی تبدیلی کا مطالبہ کیا، سڑکوں پر عوام کو متحرک کرنے کی حمایت کی اور ایک منتخب وزیر اعظم کو ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ ان کی اپنی تاریخ ہی ان کے استدلال کو غلط ثابت کرتی ہے۔

مودی حکومت ہندوستانی جمہوریہ نہیں ہے

بی جے پی صدر نتن نوین کا یہ دعویٰ کہ ’رجیم چینج‘ کا ذکر ہندوستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کو بے نقاب کرتا ہے، تین الگ الگ چیزوں کو جان بوجھ کر ایک سمجھنے جیساہے؛ بی جے پی، مرکزی حکومت اور ملک۔ یہ تینوں ایک دوسرے کے مترادف نہیں ہیں۔ حکومت ووٹروں کے ذریعے منتخب ہونے والی ایک عارضی ایڈمنسٹریٹر محض ہے، جبکہ ملک ایک خودمختار اکائی ہے۔

بی جے پی کو اقتدار سے ہٹانے کا مطلب صرف یہ ہے کہ ہندوستان پر کون سی سیاسی جماعت حکومت کرتی ہے، اس میں تبدیلی آجائے۔ اس مقصد کو ’ملک مخالف‘ قرار دینا مودی اور بی جے پی کو ملک پر ملکیت کا حق دینے جیساہے۔ مودی کو آئینی طور پر عہدے پر برقرار رہنے کا حق حاصل ہے، لیکن ان کا وزیر اعظم بنے رہنا قومی سلامتی کی ناگزیر ضرورت قرار نہیں دیا جا سکتا۔

آئین کیا ضمانت دیتا ہے؟

بی جے پی کی دلیل بنیادی طور پر یہ ہے کہ ایک بار کوئی جماعت انتخابات جیت جائے تو اگلے انتخابات تک حکومت کرنے کا اس کا حق مکمل ہو جاتا ہے اور مخالفین کی عوامی تحریکوں کے ذریعے اسے کوئی چیلنج نہیں دیا جا سکتا۔ یہ تصور پارلیامانی جمہوریت کے بالکل منافی ہے۔

آئین کا آرٹیکل 75(3) کہتا ہے کہ وزرا کی کونسل اجتماعی طور پر لوک سبھا کے سامنے جوابدہ ہوگی۔ حکومت کا برقرار رہنا پارلیامنٹ میں اسے حاصل اکثریتی حمایت پر منحصر ہے، نہ کہ موجودہ وزیر اعظم کے اس دعوے پر کہ گزشتہ انتخابات میں کامیابی نے انہیں استعفیٰ دینے کے مطالبات سے محفوظ کر دیا  ہے۔

انتخابات، عوامی تحریکوں یا پارلیامنٹ میں عدم اعتماد کی تحریک جیسے جمہوری طریقوں سے اقتدار کی تبدیلی کا مطالبہ کرنا آئین سے باہر جا کر تختہ پلٹ کرنا نہیں ہے۔ یہ طرز جمہوریت ہے۔ اگلے مقررہ انتخابات سے پہلے مودی سے عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کرنا جمہوریت کو عملی طور پر استعمال کرنا ہے۔ ہندوستان میں ایسا پہلے بھی کئی بار ہو چکا ہے۔

انتخابی کامیابی کا مطلب کیا ہے؟

ہندوستانی آئین کا آرٹیکل 19 اظہار رائے کی آزادی، پرامن اجتماع اور تنظیم سازی کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے کہ یہ حقوق انتخابات کے درمیان بھی نافذ رہتے ہیں، صرف انتخابی مہم کے دوران نہیں۔

انتخابات میں حاصل ہونے والا عوامی مینڈیٹ-2014 میں ڈالے گئے مجموعی ووٹوں کا محض 36 فیصد، یعنی 23 کروڑ ووٹ اور لوک سبھا کی 240 نشستیں-بی جے پی کو حکومت چلانے کا اختیار دیتے ہیں۔ لیکن اس سے اس کے رہنماؤں کو یہ حق نہیں مل جاتا کہ وہ تمام ہندوستانیوں سے عوامی سطح پر خاموش رہنے کا مطالبہ کریں۔

بی جے پی کے رہنماؤں اور ان کے حامیوں کا بار بار یہ کہنا کہ ’عوامی مینڈیٹ کا احترام کریں‘، اس کا مطلب یہ نہیں کہ لوگ ’ہمارے خلاف عوام کو متحرک کرنا بند کر دیں‘۔ جمہوریت میں شہری انتخابی نتائج کو قبول کرتے ہوئے بھی اگلے ہی دن سے انتخاب جیتنے والی جماعت کو اقتدار سے ہٹانے کی مہم چلا سکتے ہیں۔ ووٹروں کو قیادت تبدیل کرنے پر آمادہ کرنے کے مقصد سے موجودہ حکومت کے خلاف سیاسی عدم اطمینان پیدا کرنا جمہوری انتخابی مہم کی  اساس ہے۔

سڑکوں پر پرامن احتجاج اقتدار پر غیر آئینی قبضہ نہیں ہے

عوام کو متحرک کرنے سے، محض اجتماع اور مظاہرے کی بنیاد پر، کسی حکومت کو مقرر کرنے کا قانونی اختیار حاصل نہیں ہو جاتا۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ حکومت ان شہریوں کو مجرم قرار دینے کا حق حاصل کر لیتی ہے جو مودی کو اقتدار سے ہٹانا چاہتے ہیں۔

’رجیم چینج‘ جیسی اصطلاحات کو ہتھیار بنا کر اور خارجہ پالیسی کی زبان استعمال کرتے ہوئے یہ تاثر دے کر کہ اس کے پیچھے بیرونی طاقتوں کی سازش ہے یا اقتدار کو غیر قانونی طور پر الٹنے کی کوشش ہو رہی ہے، بی جے پی شہریوں، کارکنوں اور سول سوسائٹی میں خوف پیدا کرنا چاہتی ہے۔ وہ انہیں یہ یقین دلانا چاہتی ہے کہ قیادت کی تبدیلی کا مطالبہ کرنا بغاوت ہے۔

کیا بی جے پی کو نہیں پتہ کہ مظاہرین کے سیاسی مطالبات سے انہیں حاصل آئینی تحفظ ختم نہیں ہو جاتا؟ کوئی مظاہرہ حکومت سے استعفیٰ کا مطالبہ کر سکتا ہے، قانون میں تبدیلی کا مطالبہ اٹھا سکتا ہے یا انتخابات میں حکومت کو شکست دینے کے لیے مہم چلا سکتا ہے۔ ایسے مطالبات کی بنیاد پر انہیں باغی قرار دے کر بدنام نہیں کیا جا سکتا۔

منتخب حکومت کو ہٹانے کا مطالبہ کرنا شہریوں کا آئینی حق ہے۔

جو اپوزیشن اقتدار میں آنے کی کوشش نہیں کر سکتی، وہ اپوزیشن ہی نہیں ہے

جمہوریت میں اپوزیشن کی سیاست کا مقصد عوامی شکایتوں کو سیاسی حمایت میں تبدیل کرنا اور بالآخر حکومت بنا کر ایک متبادل سیاسی پروگرام پیش کرنا ہوتا ہے۔ یہ جمہوری جوابدہی ہے، کسی سازش کا انکشاف نہیں۔ کانگریس کے رہنما پون کھیڑا نے واضح طور پر کہا ہے کہ عوام کو متحرک کرنے کا مقصد انتخابات کے ذریعے حکومت کو شکست دینا ہے۔ اس مقصد کو جرم کا اعتراف کہنا سادہ سی سیاسی مسابقت کو ملک کے خلاف سازش کے طور پر پیش کرنا ہے۔

اپوزیشن سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ منظم ہو کر متبادل حکومت بنانے کی سمت میں  کام کرے، نہ کہ موجودہ حکومت کے ہمیشہ اقتدار میں برقرار رہنے کی ضرورت کو تسلیم کرے۔

ویسٹ منسٹر نظام اسی طرح کام کرتا ہے، جہاں اپوزیشن لیڈر کو مستقبل کے وزیر اعظم کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور ان کی ٹیم کو شیڈو کابینہ کہا جاتا ہے۔ عوامی عہدوں پر 25 سال گزارنے کے بعد مودی کو کم از کم اتنی بات تو معلوم ہونی ہی چاہیے۔

’رجیم چینج‘ کا مطالبہ کسی مجرمانہ طریقے کو قبول کرنا نہیں ہے

بی جے پی کے رہنما سدھانشو ترویدی نے دعویٰ کیا ہے کہ انتخابات کے ذریعے اقتدار کی تبدیلی جمہوری ہے، جب کہ ’رجیم چینج‘ کا مطلب سازش اور پرتشدد تصادم ہوتا ہے۔ یہ ایک متعصبانہ تعریف ہے، نہ کہ اس بات کا ثبوت کہ مخصوص مظاہرین کے ارادے کیا ہیں۔ پون کھیڑا نے انتخابات کے ذریعے حکومت تبدیل کرنے کا جو مقصد واضح کیا ہے، اسے محض دو لفظوں کی بی جے پی کی پسندیدہ تشریح کی بنیاد پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

کیا ایسا کوئی ثبوت ہے جو تشدد یا سازش کو ثابت کرتا ہو؟ محض کسی اصطلاح کے استعمال سے ثبوت کی ضرورت پوری نہیں ہو جاتی۔ حکومت تبدیل کرنے کا مطالبہ جمہوری سیاست کی بنیاد ہے۔

نتن نوین یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ ’رجیم چینج‘ کی اصطلاح کا استعمال غیر ملکی طاقتوں کے ساتھ ملی بھگت کو ظاہر کرتا ہے، حالاں کہ ایسا نہیں ہے۔ کسی حکومت یا وزیر اعظم کو ہٹانے کا مطالبہ صرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس حکومت یا رہنما کو ہٹانے کا ارادہ ہے۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس کے پیچھے کوئی غیر ملکی طاقت ہے یا کوئی غیر قانونی مہم چلائی جا رہی ہے۔

بی جے پی رہنماؤں کو مودی کے خلاف ملک کے اندر اٹھنے والی تنقید کا جواب دینے کے بجائے ’غیر ملکی حمایت‘ کو اس کا متبادل نہیں بنانا چاہیے۔ ورنہ کسی بھی ایسی اپوزیشن کو غیر ملکی طاقتوں کا حامی قرار دیا جا سکتا ہے۔

اپوزیشن میں رہتے ہوئے اقتدار کی تبدیلی کا مطالبہ کرنے کی بی جے پی کی پرانی تاریخ ہے

بی جے پی اور اس کی سابقہ جماعت بھارتیہ جن سنگھ نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ساتھ مل کر کھلے عام اور جارحانہ انداز میں اقتدار کی تبدیلی کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کی پوری سیاسی پہچان اسی طرح کے مطالبات کے اردگرد بنی تھی۔ اگر بی جے پی کے لیے وزیر اعظم کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنا اور پارلیامنٹ کے باہر مظاہرے کرنا جائز تھا تو یہی کام بی جے پی کے خلاف کیے جانے پر بذات خود ملک مخالف سازش کیسے ہو سکتا ہے؟ ان مطالبات سے متعلق آئینی حقوق اس بات سے تبدیل نہیں ہو جاتے کہ اقتدار میں کون سی جماعت ہے۔

متحدہ ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) کے دورحکومت میں بی جے پی کا یہی رویہ کئی بار سامنے آیا۔ ارون جیٹلی جیسے رہنماؤں نے کہا تھا کہ کسی منتخب حکومت کی میعاد مکمل ہونے سے پہلے بھی مسلسل تحریکوں اور استعفیٰ کے مطالبات کے ذریعے اس کی مخالفت کی جا سکتی ہے۔ بی جے پی کے سینئر رہنما لال کرشن اڈوانی اکثر ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حکومت کو ’غیر قانونی‘ قرار دیتے تھے اور مقررہ انتخابات سے بہت پہلے ہی اس کے فوری استعفیٰ، پارلیامنٹ کی کارروائی ٹھپ کرنے اور قبل از وقت انتخابات کرانے کا مطالبہ کرتے تھے۔ وہ بار بار کہتے تھے کہ کسی نااہل یا بدعنوان حکومت کو اقتدار سے ہٹانا ہر شہری اور سیاسی جماعت کی حب الوطنی کا ثبوت ہے۔

قابل ذکر ہے کہ20دسمبر 2013 کو وارانسی میں ایک ریلی کے دوران مودی نے خود کہا تھا کہ ’ عوام دہلی کی حکومت کو اکھاڑ پھینکنا چاہتے ہیں۔‘ اس سے پہلے، جون 2013 میں بی جے پی کے گوا اجلاس میں انہوں نے ’کانگریس مکت بھارت‘ کا نعرہ دیا تھا۔ ملک بھر میں حکمراں جماعت کو مکمل طور پر اقتدار سے ہٹانے کا مطالبہ کرنا اقتدار کی تبدیلی کی مہم کی وسیع ترین شکل ہے۔ اس وقت مودی عوامی جلسوں کو اس بات کا ثبوت قرار دے سکتے تھے کہ لوگ مرکزی حکومت کو ’اکھاڑ پھینکنا‘ چاہتے ہیں، لیکن آج ان کی جماعت کسی دوسری تحریک کی جانب سے بی جے پی حکومت کو ہٹانے کی خواہش کو اس کے خفیہ ایجنڈے کے طور پر پیش کرتی ہے۔

غور طلب ہے کہ 1975میں اندرا گاندھی حکومت کے خلاف جئے پرکاش نارائن کی سمپورن کرانتی (مکمل انقلاب) کی تحریک کے دوران اٹل بہاری واجپائی اور لال کرشن اڈوانی سمیت بھارتیہ جن سنگھ کے رہنماؤں نے کانگریس کی منتخب حکومت کو مکمل طور پر تبدیل کرنے اور اقتدار سے ہٹانے کے مطالبے میں سرگرمی سے حصہ لیا تھا۔ انہوں نے کانگریس حکومت کو اس کی میعاد پوری ہونے سے پہلے اقتدار سے ہٹانے کے واحد مقصد سے بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے، ہڑتالیں اور پارلیامنٹ کا بائیکاٹ کیا تھا۔ بعد میں امت شاہ اور بی جے پی کے دیگر رہنماؤں نے بھی اس تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب اقتدار میں بیٹھے لوگ تاناشاہ بن جاتے ہیں تو ’عوام کے پاس انہیں اقتدار سے اکھاڑ پھینکنے کی طاقت ہوتی ہے۔‘

اس وقت اسی طرح کی زبان اور سڑکوں پر عوامی تحریک کو جمہوری مزاحمت قرار دینا، لیکن آج اسے افراتفری یا غیر ملکی سازش کہنا، حکمراں جماعت کے  تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔ جب بی جے پی اپوزیشن کے اقتدار کی تبدیلی کے مطالبے کو خطرناک یا غیر قانونی قرار دیتی ہے تو وہ اپوزیشن کو اسی جمہوری طریقے سے محروم کرنے کی کوشش کرتی ہے جس کے ذریعے بی جے پی 1998 اور 2014 میں اقتدار میں آئی تھی۔

آخر کار، نامور شاعر رام دھاری سنگھ دنکر کے ان لفظوں کا حوالہ اپوزیشن بار بار دیتی ہے کہ؛’ سنگھاسن خالی کرو کہ جنتا آتی ہے۔‘



Source link

متعلقہ پوسٹ