اسلامی تعاون تنظیم وزرائے خارجہ کونسل کے 52 ویں اجلاس کا عراق میں انعقاد

news 1792425933 6152



news 1792425933 6152

(انور عباس )اسلامی تعاون تنظیم وزرائے خارجہ کونسل کا 52واں اجلاس 17 تا 18 اکتوبر کو منعقد ہوا،او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے 52ویں اجلاس کا انعقاد بغداد، عراق میں کیا گیا، اجلاس کا موضوع ’’مکالمہ اور یکجہتی، امن اور پائیدار ترقی کے دو بنیادی ستون‘‘ تھا۔

 اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ نے اجلاس میں شرکت کی،ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان نے وزرائے خارجہ کونسل کی صدارت عراقی وزیر خارجہ فواد محمد حسین کے سپرد کی۔

 اسلامی تعاون تنظیم کے  مطابق پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی جانب سے او آئی سی میں پاکستان کے مستقل نمائندہ سید محمد فواد شیر نے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی،اجلاس میں 70 سے زائد قراردادیں منظور کی گئیں۔

تنظیم کے مطابق ان میں مختلف رکن ممالک کی صورتِ حال، مسئلہ فلسطین، جموں و کشمیر، مسلم اقلیتوں سمیت متعدد سیاسی امور شامل تھے،قراردادوں میں برادریوں کے حقوق اور اسلاموفوبیا کے تدارک سمیت متعدد سیاسی امور بھی شامل تھے۔

اجلاس میں تنظیم کے پروگراموں اور سرگرمیوں سے متعلق اقتصادی، سماجی، انسانی ہمدردی، ثقافتی، سائنسی اور دیگر امور پر بھی غور کیا گیا، سید فواد شیر نےنائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی جانب سے قومی بیان پیش کیا،سید فواد شیر نے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیل کی مسلسل نسل کشی کی شدید مذمت کی۔

انہوں نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں، بشمول مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی القدس میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی جارحانہ کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا، سید فواد شیر نے ایک محفوظ، قابلِ عمل، جغرافیائی متصل اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔

اسلامی تعاون تنظیم کے مطابق ایسی فلسطینی ریاست جس کی سرحدیں جون 1967 سے قبل کی ہوں اور القدس الشریف اس کا دارالحکومت ہو، فواد شیر نے بھارتی غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی مشکلات کو اُجاگر کیا، سفیر فواد شیر نے کشمیری عوام کے لیے او آئی سی کی مسلسل اور غیر متزلزل حمایت کو سراہا۔

انہوں نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل اور او آئی سی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی اُمنگوں کے مطابق حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے ٹھوس اقدامات پر زور دیا،فواد شیر نے مسلم اُمہ کے اتحاد کی اہمیت پر زور دیا، انہوں نے امن، سلامتی اور ترقی سے متعلق مشترکہ چیلنجز پر قابو پانے میں او آئی سی کے کردار کو اُجاگر کیا۔

انہوں نے حوثی حملوں کے خلاف سعودی عرب کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا، انہوں نے یمن کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا بھی اظہار کیا، فواد شیر نے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس کے دوران منعقد ہونے والے وزارتی مشاورتی اجلاس میں بھی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کی نمائندگی کی۔

 اسلامی تعاون تنظیم  کے مطابق امن اور پائیدار ترقی کے دو بنیادی ستون‘‘ تھے،فواد شیر نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی میں پاکستان کے کردار کو اُجاگر کیا، کشیدگی میں کمی اور وسیع تر علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں جنگ بندی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت طے پائی۔

اسلامی تعاون تنظیم کے مطابق اجلاس کے اختتام پر ’’اعلانِ بغداد‘‘ بھی منظور کیا گیا،اس میں اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے مشترکہ مؤقف کی عکاسی کی گئی، اعلانِ بغداد میں اُمتِ مسلمہ کو درپیش اہم مسائل، بشمول فلسطین، جموں و کشمیر اور اسلاموفوبیا پر رکن ممالک کے مشترکہ مؤقف کو اُجاگر کیا گیا۔

 اعلانِ بغداد میں اُمتِ مسلمہ کو درپیش اہم مسائل، بشمول علاقائی سلامتی کی صورتِ حال اور دیگر عصری معاملات پر رکن ممالک کے مشترکہ مؤقف کو اُجاگر کیا گیا،اعلانِ بغداد کے ذریعے بغداد میں منعقد ہونے والے وزرائے خارجہ کونسل کے 52ویں اجلاس کی کامیابی اور اہمیت کو بھی نمایاں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں :سندھ میں پولیو کا ایک اور کیس سامنے آ گیا، تعداد7ہو گئی





Source link

متعلقہ پوسٹ