جعلی امریکی ڈاک ٹکٹوں کی آن لائن فروخت سے 35 ارب روپے کا فراڈ، مرکزی ملزم گرفتار

399302 586320813


نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) لاہور زون نے جعلی امریکی ڈاک ٹکٹوں کی آن لائن فروخت کے ذریعے مبینہ طور پر 35 ارب روپے کے فراڈ میں ملوث انتہائی مطلوب ملزم فہم اکرم سمیت 59 افراد کو گرفتار کر لیا۔

ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے عاطف امیر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جعلی ڈاک ٹکٹوں کی فروخت کے معاملے میں امریکہ کو مطلوب فہیم اکرم نامی ملزم کے خلاف کارروائی کی گئی اور انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

امریکہ نے فہیم اکرم کی گرفتاری میں مدد پر ایک لاکھ ڈالر انعام کا اعلان کر رکھا تھا۔

تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ملزم اگست 2023 سے ستمبر 2026 تک LabelsBank.com کے نام سے ویب سائٹ چلا رہا تھا، جس کے ذریعے 50 لاکھ سے زائد جعلی امریکی ڈاک ٹکٹ فروخت کیے گئے۔

تحقیقات کے مطابق ہر ڈاک ٹکٹ دو امریکی ڈالر میں فروخت کیا گیا، جبکہ اس کاروبار کی مجموعی مالیت پاکستانی کرنسی میں تقریباً 35 ارب روپے بتائی گئی ہے۔

حکام کے مطابق اس مبینہ کاروبار کے لیے 16 بینک اکاؤنٹس استعمال کیے گئے، جن میں ملزم کے علاوہ اس کے بھائی، اہلیہ، بہن اور خالہ کے اکاؤنٹس بھی شامل ہیں۔ اس معاملے میں ایف آئی آر نمبر 246/2026 درج کی گئی ہے۔

ملزم کا سراغ لگانے اور معاملے کی تحقیقات کے لیے پنجاب، اسلام آباد اور سندھ میں آٹھ خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ ان ٹیموں نے 35 مقامات پر چھاپے مارے اور 47 افراد سے پوچھ گچھ کی۔

این سی سی آئی اے کے مطابق تفتیشی ٹیموں نے مصنوعی ذہانت سمیت جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے 122 کال ڈیٹا ریکارڈز، 50 آئی ایم ای آئی ٹریکنگ رپورٹس اور 120 کیمروں کی ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگز کا تجزیہ کیا۔ ملزم کا سراغ لگانے کے لیے دس روز تک لوکیٹر آپریشن بھی جاری رہا۔

کیس کی جامع تحقیقات کے لیے ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے لاہور زون عاطف امیر نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے، جس میں ڈپٹی ڈائریکٹر وقاص سعید، ڈپٹی ڈائریکٹر حسن، ایس ایچ او نجم باجوہ، سب انسپکٹر نبیل اور سب انسپکٹر تنویر شامل ہیں۔

یہ ٹیم جعلی ڈاک ٹکٹوں کی فروخت، مالی لین دین اور مبینہ نیٹ ورک سے منسلک دیگر افراد کے کردار کی مزید تحقیقات کرے گی۔

دوسری جانب این سی سی آئی اے لاہور زون نے لاہور میں تین مختلف مقامات پر غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے 59 افراد کو گرفتار کیا ہے، جن میں 52 مرد اور سات خواتین شامل ہیں۔ کارروائیوں کے دوران 27 لیپ ٹاپ، 30 کمپیوٹر سسٹمز اور 47 موبائل فون بھی برآمد کیے گئے۔

این سی سی آئی اے کے مطابق پہلی کارروائی میں 30 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن پر اے ٹی اینڈ ٹی اور ویریزون جیسی امریکی ٹیلی کام کمپنیوں کے نمائندے ظاہر ہو کر صارفین کو موبائل فون اپ گریڈ، رعایتی نیٹ ورک پیکجز اور خصوصی سم آفرز کے نام پر دھوکا دینے کا الزام ہے۔

دوسری کارروائی میں 14 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ان پر الزام ہے کہ وہ اوبر ایٹس سے منسلک ریسٹورنٹس کی ادائیگیوں سے متعلق اکاؤنٹس کی تفصیلات اور تصدیقی کوڈز حاصل کرکے رقوم دوسرے اکاؤنٹس میں منتقل کرتے تھے۔

تیسری کارروائی میں مزید 15 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن پر امریکی شہریوں کو موبائل فون کے جعلی سودوں اور رعایتی پیکجز کی پیشکش کرکے مالی فراڈ کرنے کا الزام ہے۔

این سی سی آئی اے کے مطابق یہ کارروائیاں لاہور زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر عاطف امیر کی نگرانی میں کی گئیں۔ برآمد کیے گئے ڈیجیٹل آلات کی مدد سے تحقیقات جاری ہیں، جبکہ سائبر کرائم اور آن لائن مالی فراڈ میں ملوث نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جا رہی ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کارروائیاں کرتے ہوئے 59 افراد کو گرفتار کیا ہے، جن میں 52 مرد اور سات خواتین شامل ہیں۔ کارروائیوں کے دوران 27 لیپ ٹاپ، 30 کمپیوٹر سسٹمز اور 47 موبائل فون بھی برآمد کیے گئے۔

این سی سی آئی اے کے مطابق پہلی کارروائی میں 30 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن پر اے ٹی اینڈ ٹی اور ویریزون جیسی امریکی ٹیلی کام کمپنیوں کے نمائندے ظاہر ہو کر صارفین کو موبائل فون اپ گریڈ، رعایتی نیٹ ورک پیکجز اور خصوصی سم آفرز کے نام پر دھوکا دینے کا الزام ہے۔

دوسری کارروائی میں 14 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ان پر الزام ہے کہ وہ اوبر ایٹس سے منسلک ریسٹورنٹس کی ادائیگیوں سے متعلق اکاؤنٹس کی تفصیلات اور تصدیقی کوڈز حاصل کرکے رقوم دوسرے اکاؤنٹس میں منتقل کرتے تھے۔

تیسری کارروائی میں مزید 15 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن پر امریکی شہریوں کو موبائل فون کے جعلی سودوں اور رعایتی پیکجز کی پیشکش کرکے مالی فراڈ کرنے کا الزام ہے۔

این سی سی آئی اے کے مطابق یہ کارروائیاں لاہور زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر عاطف امیر کی نگرانی میں کی گئیں۔ برآمد کیے گئے ڈیجیٹل آلات کی مدد سے تحقیقات جاری ہیں، جبکہ سائبر کرائم اور آن لائن مالی فراڈ میں ملوث نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جا رہی ہیں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ