کراچی پولیس چیف آزاد خان نے ناظم آباد میں ڈسٹرکٹ سینٹرل اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کے درمیان جھگڑے کی تفتیش مکمل ہونے پر 7 افسران سمیت 16 اہلکاروں کو معطل کر دیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ایک ہفتے قبل منگل کی شب ایس آئی یو سی آئی اے اور ڈسٹرکٹ سینٹرل پولیس کے درمیان اغوا میں ملوث ملزمان کی گرفتاری پر جھگڑا ہوا جو شدت اختیار کر گیا تھا۔
جھگڑے کے دوران ڈی ایس پی شادمان ٹاؤن منہاج الحسن اور اے ایس آئی راحیل قریشی مبینہ طور پر ایس آئی یو اہلکاروں کے تشدد سے زخمی بھی ہوئے تھے جبکہ ناظم آباد تھانے کے باہر واقعے کی کوریج کے دوران سابق صدر کرائم رپورٹر ایسوسی ایشن، ممبر پریس کلب اور مقامی اخبار کے چیف کرائم رپورٹر کاشف ہاشمی کو تشدد کا بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔
تاہم ایس ایس پی سینٹرل کی جانب سے فوری مداخلت کرتے ہوئے سابق صدر سی آر اے کو تشدد کا نشانہ بنانے والے شخص کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔
ناظم آباد میں ایس آئی یو سی آئی اے پولیس اور ڈسٹرکٹ سینٹرل پولیس کے درمیان جھگڑے کی اطلاع پر کراچی پولیس چیف آزاد خان نے نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کو انکوائری افسر مقرر کیا تھا۔
ڈی آئی جی ساؤتھ کی جانب سے بنائی گئی رپورٹ کی روشنی میں کراچی پولیس چیف نے اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ سی آئی اے کے 5 افسران سمیت 11 اہلکاروں جبکہ ڈسٹرکٹ سینٹرل کے 2 پولیس افسران سمیت 5 اہلکاروں کو معطل کر کے ان کا تبادلہ کردیا۔
کراچی پولیس چیف نے گارڈن پولیس ہیڈ کوارٹر ساؤتھ زون میں قائم سسپنڈ کمپنی کر دیا ہے جبکہ ان کے خلاف محکمہ جاتی انکوائری کا بھی عمل جاری ہے۔

