واشنگٹن — امریکہ میں ۳ نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے تقریباً دو ہفتے قبل نیویارک ٹائمز اور سینا یونیورسٹی کے سروے میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی کارکردگی سے صرف ۳۶ فیصد ممکنہ ووٹروں نے اطمینان ظاہر کیا، جبکہ ۵۹ فیصد نے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ یہ سروے میں ٹرمپ کی مقبولیت کی اب تک کی کم ترین سطح ہے۔
سروے ۱۲ سے ۱۹ اکتوبر کے درمیان ۳,۴۹۴ ممکنہ ووٹروں سے کیا گیا۔ سروے کے مطابق ایوانِ نمائندگان کے انتخابی مقابلے میں ڈیموکریٹس کو ری پبلکنز پر ۱۱ پوائنٹس کی برتری حاصل ہوئی، تاہم اس سے کانگریس میں اکثریت کی ضمانت نہیں ملتی۔
مہنگائی، رہائشی اخراجات، ایندھن کی قیمتیں اور ایران سے جنگ ووٹروں کی اہم تشویش بنے ہوئے ہیں۔ تقریباً ۶۹ فیصد ووٹروں نے رہائشی اخراجات سے نمٹنے کے صدر کے طریقۂ کار پر عدم اطمینان ظاہر کیا، جبکہ تقریباً ۶۵ فیصد نے ایران جنگ سے متعلق پالیسی کو ناپسند کیا۔
سروے میں مہنگائی اور رہائشی اخراجات کے معاملے میں ڈیموکریٹس پر ری پبلکنز کے مقابلے میں ۱۵ پوائنٹس زیادہ اعتماد ظاہر کیا گیا، جبکہ معیشت کے مجموعی انتظام میں ڈیموکریٹس کو ۸ پوائنٹس کی برتری ملی۔
تاہم ری پبلکن ووٹروں میں ٹرمپ کی حمایت برقرار ہے؛ ۸۲ فیصد ری پبلکن ووٹروں نے ان کی کارکردگی کی تائید کی، جبکہ دو تہائی سے زیادہ آزاد ووٹروں نے عدم اطمینان ظاہر کیا۔ سروے میں صرف ۲۸ فیصد ممکنہ ووٹروں نے ڈیموکریٹک پارٹی سے اطمینان ظاہر کیا، جو ری پبلکن پارٹی سے اطمینان رکھنے والوں سے ۸ پوائنٹس کم ہے۔

