وزیراعظم شہباز شریف نے پشاور میں اپیکس کمیٹی کے اجلاس کے دوران 22 اکتوبر کو خیبر پختونخوا کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 160 ارب روپے دینے کا اعلان کیا لیکن اس اعلان کے بعد ایک اہم سوال سامنے آیا کہ وفاق کے ذمے صوبے کے پہلے سے واجب الادا سینکڑوں ارب روپے کب ملیں گے؟
خیبر پختونخوا حکومت کے سابق مشیر خزانہ مزمل اسلم کے مطابق وفاق کے ذمے قبائلی اضلاع کے ترقیاتی فنڈز اور پن بجلی کے خالص منافع سمیت مختلف مدات میں تقریباً اربوں روپے کے واجبات ہیں جن میں سب سے بڑی رقم ضم شدہ اضلاع کے لیے اعلان کردہ 10 سالہ ترقیاتی منصوبے کی ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو نے وفاقی اور صوبائی بجٹ دستاویزات کا جائزہ لینے اور متعلقہ حکام سے گفتگو کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ خیبر پختونخوا کے یہ واجبات کن مدات میں بنتے ہیں۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
اب تک کتنی رقم ادا کی گئی اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان ادائیگیوں کا تنازع کیوں برقرار ہے۔
قبائلی اضلاع کے لیے سالانہ 100 ارب روپے
وفاقی اور خیبر پختونخوا حکومت نے قبائلی اضلاع کے ضم ہونے کے بعد 2019 میں ’ٹرائبل ڈیکیڈ سٹریٹجی 2020-30‘ کے نام سے 10 سالہ ترقیاتی منصوبے کا اعلان کیا تھا جس کے تحت قبائلی اضلاع میں 10 سالوں میں ایک ہزار ارب روپے خرچ کیے جائیں گے تاکہ انہیں بندوبستی اضلاع کے برابر لایا جا سکے۔
اس پروگرام کے تحت وفاقی اور صوبائی حکومت سالانہ اپنے بجٹ میں اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے 100 ارب روپے قبائلی اضلاع کے لیے مختص کرے گی۔
یاد رہے کہ اس منصوبے کے لیے مختص رقم بجٹ میں عمومی طور پر ’سالانہ ترقیاتی پروگرام‘ سے الگ ہوتی ہے اور منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی ذمہ داری خیبر پختونخوا حکومت کی ہے۔
صوبائی حکومت کی جانب سے 2021 میں جاری کیے گئے وائٹ پیپر میں درج ہے کہ قبائلی اضلاع کے ضم ہونے کے بعد تمام صوبوں نے وعدہ کیا تھا کہ ان علاقوں کی ترقی کے لیے نیشنل فنانس کمیشن میں آنے والے فنڈ کا تین فیصد حصہ قبائلی اضلاع کی ترقی میں استعمال ہو گا لیکن ایسا نہ ہو سکا۔
وائٹ پیپر میں اس منصوبے کے لیے گذشتہ سالوں میں مختص فنڈ کے اعداد و شمار بھی دیے گئے ہیں۔
ان اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ جب سے یہ خصوصی ترقیاتی پروگرام شروع ہوا ہے کسی سال بھی اس پروگرام کے لیے 100 ارب روپے مختص نہیں کیے گئے۔
مالی سال 2019-20 میں اس پروگرام کے لیے 24 ارب، 2021 میں بھی 24 ارب جبکہ 2022 کے لیے اس منصوبے کے لیے 36 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔
اسی طرح مالی سال 2024-2025 میں وفاقی حکومت نے بجٹ دستاویزات کے مطابق ضم شدہ اضلاع کی ترقی کے لیے 35 ارب روپے مختص کیے تھے جبکہ 2023 میں 33 ارب روپے مختص کیے لیکن اس میں سے محکمہ خزانہ کے مطابق صرف تین ارب روپے جاری کیے گئے تھے۔
خیبر پختونخوا حکومت کے مشیر خزانہ (معطل شدہ) مزمل اسلم کے مطابق 10 سال کے لیے سالانہ 100 ارب روپے وفاق نے ضم شدہ اضلاع کی ترقی کے لیے دینے تھے تاہم 2018 سے 2026 کے آٹھ سالوں کے 800 ارب میں سے 200 ارب تک دیے گئے ہیں اور باقی 600 ارب روپے وفاق کے ذمہ واجب الادا ہیں۔
مزمل اسلم نے انڈپینڈنٹ اردو کے ساتھ خصوصی گفتگو میں بتایا کہ ضم شدہ اضلاع کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے وعدہ کیا گیا تھا لیکن اس کے اب ترقیاتی تو کیا جاری اخراجات بھی خیبر پختونخوا حکومت برداشت کرتی ہے۔
مزمل اسلم نے بتایا، ’اس 100 ارب سالانہ کے علاوہ وفاقی حکومت نے سالانہ 28 ارب روپے بھی ضم اضلاع کے ترقیاتی فنڈ کی مد میں دینے تھے لیکن وہ بھی پورا نہیں دے رہی اور اس مد میں بھی ایک کھرب وفاقی حکومت پر واجب الادا ہے جبکہ ضم اضلاع کے جاری اخراجات بھی سالانہ 100 ارب روپے سے بڑھ گئے ہیں۔ ‘
وار آن ٹیرر کی مد میں ملنے والی رقم
وفاقی حکومت کا ہمیشہ یہ مؤقف رہا ہے کہ ہم نے خیبر پختونخوا حکومت کو 2010 سے لے کر اب تک 800 ارب روپے دیے اور 2023 میں وزیر اعظم شہباز شریف نے اس فنڈ کا آڈٹ کرنے کا حکم بھی دیا تھا لیکن نہیں ہو سکا۔
یہ فنڈ خیبر پختونخوا کو ’وار آن ٹیرر‘ کی مد میں ملنے والے این ایف سی کا ایک فیصد ہے جو 2010 سے خیبر پختونخوا حکومت کو ملتا ہے تاہم مزمل اسلم کے مطابق یہ فنڈ عسکریت پسندی سے متاثرہ لوگوں کے لیے ہے اور کسی نئے آپریشن کرنے یا آلات خریدنے کے لیے نہیں۔
انہوں نے بتایا ’گو کہ یہ فنڈز دہشت گردی کے متاثرین کی بحالی کے لیے تھے لیکن اگر یہ پولیس کے جاری اخراجات کے لیے بھی استعمال کیے جائیں تو یہ بہت کم رقم بنتی ہے کیونکہ رواں سال کو اگر دیکھا جائے تو پولیس کا سالانہ بجٹ تقریباً 192 ارب روپے ہے جو صوبائی حکومت اپنے بجٹ سے برداشت کرتی ہے تو اندازہ لگائیں کہ 2010 سے اب تک پولیس کا بجٹ کتنا بنتا ہے۔ ‘
مزمل اسلم نے دیگر صوبوں سے خیبر پختونخوا کا موازنہ کرتے ہوئے بتایا کہ بلوچستان کو این ایف سی میں ہم سے زیادہ فنڈ ملتا ہے لیکن اس کا احتساب وفاقی حکومت نہیں مانگتی جبکہ پنجاب کو زیادہ ریونیو پیدا کرنے کی وجہ سے این ایف سی میں دیگر صوبوں سے زیادہ فنڈ ملتا ہے لیکن اس کا حساب بھی نہیں مانگا جاتا۔
بجلی کے خالص منافع کے بقایا جات
این ایف سی ایوارڈ کے علاوہ وفاقی حکومت جن صوبوں میں بجلی بنانے والے پاور سٹیشنز موجود ہیں انہیں بجلی کی پیداواری قیمت اور ترسیل کا خرچہ منہا کر کے خالص منافع کی مد میں 1986 میں بنائے گئے اے جی این قاضی فارمولے کے تحت ادائیگی کرتی ہے۔
اس فارمولے کے تحت 1991 میں بجلی کے ایک یونٹ کی قیمت 0.21 روپے مقرر ہوئی اور خیبر پختونخوا کو بجلی کے خالص منافع کی مد میں سالانہ چھ ارب روپے ملنا طے پائے لیکن بعد میں صوبائی حکومت کے مطابق اس ادائیگی میں ٹال مٹول سے کام لینا شروع کر دیا گیا۔
مزمل اسلم کے مطابق اسی مد میں اب تک وفاقی حکومت پر 80 ارب روپے واجبات ہیں اور وہ روپے بھی پورے نہیں دیے جا رہے ہیں۔
پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں خیبر پختونخوا کے بقایا جات کی ادائیگیوں کے معاملے پر ماضی میں ایم ایم اے سے لے کر وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور تک وفاق سے بات کر چکے ہیں لیکن بقول ان کے فائدہ نہیں ہوا۔
علی امین کے دور میں اس سال اپریل تک باقاعدگی سے ادائیگیاں نہ ہونے کی وجہ سے خیبر پختونخوا کے واجبات جمع ہوئے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تاہم یہ معاملہ صرف پاکستان مسلم لیگ تک محدود نہیں ہے کیونکہ جب وفاق اور خیبر پختونخوا دونوں میں پی ٹی آئی کی حکومت تھی تب بھی وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا کو پن بجلی کے واجبات پورے نہیں ملتے تھے۔
انڈپینڈنٹ اردو کے پاس موجود سرکاری دستاویزات کے مطابق جب عمران خان وزیر اعظم تھے تو اس وقت 2019-20 میں وفاق نے بجلی کے خالص منافع کی مد میں تقریباً 56 ارب روپے دینے تھے لیکن صرف 16 ارب کی ادائیگی کی گئی۔
اسی طرح 2020-21 میں وفاق نے خیبر پختونخوا کو تقریباً 58 ارب روپے کے بجائے 47 ارب روپے دیے جبکہ 2021-22 میں 74 ارب روپے کے بجائے محض 21 ارب روپے دیے گئے۔
یوں وزیراعظم کی جانب سے 160 ارب روپے کے نئے اعلان کے باوجود خیبر پختونخوا کے پرانے مالی واجبات کا معاملہ اپنی جگہ موجود ہے۔
صوبائی حکومت کے سابق مشیر خزانہ کے دعوے کے مطابق ضم شدہ اضلاع کے ترقیاتی منصوبوں دیگر ترقیاتی فنڈز اور پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں وفاق کے ذمے تقریباً 780 ارب روپے باقی ہیں۔
تاہم ان واجبات کی مجموعی رقم اور ادائیگیوں کی صورت حال پر وفاقی حکومت کا مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔
اس سارے واجبات اور معاملے پر انڈپینڈنٹ اردو نے وزیر اعظم کے خیبر پختونخوا کے لیے کوارڈینیٹر اختیار ولی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن اس رپورٹ کے شائع ہونے تک کوئی جواب نہ مل سکا۔

