’آئیے سمجھیں اتراکھنڈ میں مودی-گیانو کی ووٹ چوری کا کھیل‘، کانگریس کی سوشل میڈیا پوسٹ ہو رہی وائرل

news 1792847940 7719



news 1792847940 7719

بھارت کے الیکشن کمیشن کا چیف گیانیش کمار بھارتیہ جنتا پارٹی کا آلہ کار بن کر ووٹرز لسٹوں میں ہندوتوا کے مخالف ووٹروں کے ناموں پر جھاڑو پھیر رہا ہے۔ اس سنگین صورتحال کو لے کر اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ سٹوڈنٹس، عورتیں اور کاکروچ بھی احتجاج کر رہے ہین لیکن نہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش پر اس کا اثر ہو رہا ہے نہ بھارتیہ جنتیا پارٹی کی حکومت پر، اب کانگرنس نے اتراکھنڈ میں ووٹرز لسٹ دھاندلا سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر کچھ پوسٹیں کیں تو ہر طرف شور مچ  گیا۔ کانگرس کی گیانش بھاجپا گٹھ جوڑ کے متعلق یہ پوسٹیں فوراً ہی وائرل ہو گئیں۔

کانگریس ایس آئی آر اور ووٹ چوری کے خلاف لگاتار آواز اٹھا رہی ہے۔ سڑکوں پر تحریک چلانے کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر روزانہ اس بارے میں کئی پوسٹس ڈالی جا رہی ہیں۔ آج اتراکھنڈ میں ووٹ چوری ظاہر کرنے والی سوشل میڈیا پوسٹ ڈال کر کانگریس نے ایک بار پھر سیاسی گہما گہمی پیدا کر دی ہے۔ یہ سوشل میڈیا پوسٹ وائرل ہو رہی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ اتراکھنڈ میں کس طرح ’ووٹ چوری‘ کا کھیل انجام دیا گیا ہے۔

اتراکھنڈ میں بھی نشانہ مسلم ووٹر!
’ایکس‘ پر  ایک مقبول پوسٹ میں کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’اتراکھنڈ میں ’مودی-گیانو‘ کی ’ووٹ چوری‘ کا کھیل… کِچھا میں بی جے پی کے بی ایل اے نے ووٹر لسٹ سے نام کٹوانے کے لیے 5359 فارم-7 بھرے، جن میں بیشتر مسلم ووٹرز تھے۔‘‘

 اپوزیشن پارٹی نے صرف یہ مثال ہی نہیں پیش کی، بلکہ اس کے بعد سامنے آئے اعتراضات اور پیش رفت کا بھی ذکر اس پوسٹ میں کیا ہے۔ پارٹی نے لکھا ہے کہ ’’ای آر او نے  بہت بڑے پیمانہ پر آئے ان اعتراضات کو قبول کرنے سے منع کر دیا اور کہا– میں یہ فارم منظور نہیں کر سکتا، یہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے خلاف ہیں۔ بس پھر کیا تھا… بی جے پی کے بی ایل اے نے اسے دل پر لے لیا۔ غصہ میں تمتماتے ہوئے الیکشن کمیشن میں بیٹھے اپنے آقا کو خط لکھ کر ای آر او کی شکایت کر دی۔‘‘

کانگرس کی  اس مقبول پوسٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’2 دن کے اندر ای آر او کے دفتر سے بی ایل اے کے پاس فون آیا اور بتایا کہ ہم نے آپ کے فارم-7 منظور کر لیے ہیں۔ یعنی الیکشن کمیشن نے ’ووٹ چوری‘ کے لیے اصولوں کو ٹھینگا دکھایا اور تھوک میں فارم-7 منظور کرنے کا حکم دے دیا۔‘‘
کانگریس کا الزام ہے کہ اس کارروائی سے  ووٹرز لسٹ میں سے کئی اہل ووٹرز کے نام کٹ گئے۔ کانگریس نے پوسٹ میں  احتجاج کیا ہے کہ ’’فائنل ووٹر لسٹ سے 4390 نام اڑا دیے گئے، جن میں سینکڑوں نام وہی تھے، جو بی ایل اے راجیش تیواری نے بھیجے تھے۔‘‘

یہ بھی پڑھیئے:  بی جے پی جھوٹی پارٹی ہے، ان سبھی لوگوں سے بدلہ لینے پر آمادہ ہے جو ان سے متفق نہیں ، نصیر الدین شاہ 

ان حقائق کو پیش کرنے کے بعد کانگریس نے حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے ڈھیٹ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پرایک بار پھر  لعن طعن کی۔

 پارٹی نے عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’غدار گیانیش نے بی جے پی کو فتحیاب کرانے کے لیے پورے سسٹم کو کام پر لگا رکھا ہے۔ کسی نہ کسی طریقے سے آپ کے ووٹ چرائے جا رہے ہیں۔ لیکن ملک کی عوام سب دیکھ رہی ہے۔‘‘ آخر میں یہ بھی عزم ظاہر کیا گیا ہے کہ ’’ان ووٹ چوروں کا حساب ہوگا، کسی کو بخشا نہیں جائے گا۔‘‘
یہ بھی پڑھیئے:    بارھویں کی طالبہ نے سکول میں خود کو آگ لگا لی 





Source link

متعلقہ پوسٹ