پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری امریکہ ایران تنازع کے باعث مہنگائی کے دباؤ کے پیش نظر اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے پر قابو پانے کے لیے ملک بھر میں ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم دیا ہے۔
تنازع کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے پاکستان جیسے درآمدات پر انحصار کرنے والے ملک میں نقل و حمل اور اشیا کی ترسیل کے اخراجات بڑھا دیے ہیں، جس سے گھریلو بجٹ پر مزید دباؤ پڑ رہا ہے۔
حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا کاروباری ادارے بڑھتے اخراجات کے مقابلے میں قیمتوں میں غیر ضروری اضافہ تو نہیں کر رہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ستمبر میں سالانہ صارفین کی مہنگائی کی شرح اگست کے 11.1 فیصد سے کم ہو کر 10.3 فیصد رہی، جبکہ ہول سیل مہنگائی کی سالانہ شرح 13.3 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ 22 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں ہفتہ وار مہنگائی کی شرح بڑھ کر 11.85 فیصد ہوگئی، جس کی بڑی وجہ گندم کے آٹے کی قیمتوں میں اضافہ تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ گندم اور چینی سمیت اہم غذائی اشیا کے ملکی ذخائر طلب پوری کرنے کے لیے کافی ہیں، تاہم گندم کی بڑھتی قیمتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ ذخیرہ اندوزی اور قیاس آرائی پر مبنی تجارت مہنگائی میں مزید اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔
وزارتِ اطلاعات کے مطابق قومی ذخائر، خریداری کے طریقہ کار، کھپت اور قیمتوں کے رجحانات کا جائزہ لینے کے لیے کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں ہفتے کو نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ نیشنل فوڈ سکیورٹی کا تحفظ اور ضروری اشیا کی مناسب قیمتوں پر دستیابی حکومت کی ترجیح ہے۔
انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکام کو منڈیوں اور تجارتی نیٹ ورکس کی کڑی نگرانی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کسی قسم کی نرمی نہ برتی جائے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اجلاس کے شرکا کو بتایا گیا کہ روزمرہ استعمال کی ضروری اشیا کے ملکی ذخائر تسلی بخش ہیں، جس سے مقامی منڈیوں میں رسد مستحکم رکھنے میں مدد ملے گی۔
وزارتِ اطلاعات کے مطابق گندم کے ملکی اور درآمدی ذخائر اگلی فصل کی آمد تک ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں۔
اسحاق ڈار نے گندم کی قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکام کو قیمتیں مستحکم رکھنے کے لیے گندم کی رسد بڑھانے سمیت تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔
وزارتِ اطلاعات کے مطابق اجلاس میں بتایا گیا کہ چینی کی مقامی مارکیٹ میں قیمت 155 روپے فی کلو کے مقررہ ہدف سے خاصی کم ہے، جبکہ اگلے کرشنگ سیزن تک ضروریات پوری کرنے کے لیے اضافی ذخائر بھی موجود ہیں۔
رواں ماہ پاکستان کے سب سے بڑے زرعی صوبے پنجاب کی حکومت نے آٹے کی سستے داموں دستیابی یقینی بنانے کے لیے 10 ارب روپے کی سبسڈی منظور کی تھی۔
اس کے علاوہ فلور ملوں کو رعایتی نرخوں پر فراہم کی جانے والی گندم کا کوٹہ بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا، جس کی قیمت 3,800 روپے فی من مقرر کی گئی ہے۔

