سہ فریقی سیریز: شاداب کی یادگار سینچری، انگلینڈ کی دلچسپ مقابلے میں ہار

399444 418021441


پاکستان نے اتوار کو لاہور میں آل راؤنڈر شاداب خان کی پہلی سینچری کی مدد سے انگلینڈ کو سہ فریقی ٹورنامنٹ کے میچ میں ایک وکٹ سے یادگار شکست دے دی۔

اس فتح کے ساتھ ہی میزبان ٹیم نے ایونٹ کے فائنل میں جگہ بنا لی۔

242 رنز کے معمولی ہدف کا دفاع کرتے ہوئے انگلینڈ کی جیت یقینی دکھائی دے رہی تھی کیونکہ پاکستان کے نو کھلاڑی 154 رنز پر آؤٹ ہو چکے تھے۔

تاہم شاداب کی ناقابلِ شکست 113 رنز کی اننگز نے ہیری بروک کی قیادت میں انگلش ٹیم کو سیریز میں پانچ دن کے اندر تیسری شکست سے دوچار کر دیا۔ سیریز میں سری لنکا بھی شریک ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

انگلینڈ کو جمعرات کو سری لنکا کے خلاف 430 رنز کا ہدف دینے کے باوجود شکست ہوئی تھی۔

اتوار کو اسے اس وقت ایک اور دھچکا لگا جب پاکستان کے آخری نمبر کے بلے باز حارث رؤف نے چوکا لگا کر ٹیم کو فتح دلا دی۔ اس پر پاکستان کے ڈریسنگ روم میں زبردست جشن منایا گیا۔

ناقابلِ شکست سات رنز بنانے والے حارث نے آخری وکٹ کے لیے شاداب کے ساتھ 89 رنز کی فیصلہ کن شراکت قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

پانچ چھکے اور 13 چوکے لگانے والے شاداب اس وقت خوش قسمت رہے کہ جب پاکستان کو جیت کے لیے 20 رنز درکار تھے تو گس ایٹکنسن کی گیند پر انہیں ایل بی ڈبلیو قرار دینے کا فیصلہ ریویو پر واپس لے لیا گیا۔

اس سے قبل وہ مایوسی کے عالم میں پویلین کی جانب جانے لگے تھے، تاہم انہوں نے ریویو لینے کا فیصلہ کیا جس پر فیصلہ ان کے حق میں بدل گیا۔

شاداب دوبارہ کریز پر آئے اور پاکستان کو فتح دلا کر فائنل میں پہنچا دیا۔

پاکستان کی اننگز کا آغاز مایوس کن رہا اور اوپنر فخر زمان اور بابر اعظم 10، 10 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے جبکہ صائم ایوب صرف چھ رنز بنا سکے۔

اس کے بعد سعد بیگ نے 32 اور سلمان آغا نے 26 رنز بنا کر اننگز کو سنبھالنے کی مختصر کوشش کی۔

شاداب نے 24ویں اوور میں اس وقت بیٹنگ شروع کی جب پاکستان کے چھ کھلاڑی 103 رنز پر پویلین لوٹ چکے تھے۔

اس شکست کے بعد انگلینڈ کے لیے 31 اکتوبر کو ہونے والے فائنل میں جگہ بنانے کے امکانات غیر یقینی ہو گئے ہیں۔

فائنل تک پہنچنے کے لیے اسے امید کرنا ہو گی کہ پاکستان منگل کو سری لنکا کو شکست دے، جس کے بعد انگلینڈ کو جمعرات کو خود بھی سری لنکا کے خلاف کامیابی حاصل کرنا ہو گی۔

آج انگلینڈ کی پوری ٹیم 241 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ سکور میں اوپنر بین ڈکٹ کی سینچری کا اہم کردار رہا، جنہوں نے 105 رنز بنا کر اننگز کو سہارا دیا۔

ڈکٹ کی اننگز اور سیم کرن کے 42 رنز نے پانچویں وکٹ کے لیے 93 رنز کی شراکت قائم کر کے انگلینڈ کو تین وکٹوں کے نقصان پر 19 رنز کی انتہائی مشکل صورت حال سے نکالا۔

نچلے نمبروں پر بیٹنگ کرتے ہوئے ایٹکنسن نے بھی ناقابلِ شکست 36 رنز بنائے۔

پاکستان کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے 46 رنز دے کر چار وکٹیں حاصل کیں جبکہ رضا اللہ نے اپنے پہلے ایک روزہ بین الاقوامی میچ میں 38 رنز کے عوض دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انگلینڈ کی پوری ٹیم 46.4 اوورز میں پویلین لوٹ گئی۔

ڈکٹ نے 10 چوکے اور دو چھکے لگائے، تاہم وہ سپنر عرفات منہاس کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔ عرفات نے 26 رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کیں۔

شاہین نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا اور پہلے ہی اوور میں ٹام بینٹن کو چار رنز پر آؤٹ کر دیا۔ یہ شاہین کی ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میں 150ویں وکٹ تھی۔

بائیں ہاتھ سے تیز بولنگ کرنے والے شاہین پاکستان کی جانب سے ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میں 150 یا اس سے زیادہ وکٹیں لینے والے 13ویں بولر ہیں۔

انہوں نے اپنے اگلے اوور میں جو روٹ کو پانچ رنز پر آؤٹ کیا، جو شارٹ بال پر کٹ کھیلنے کی کوشش میں کیچ دے بیٹھے۔

انگلینڈ کی مشکلات اس وقت مزید بڑھ گئیں جب بروک صرف ایک رن بنا کر رن آؤٹ ہو گئے۔

انہوں نے سری لنکا کے خلاف اپنی ٹیم کی حیران کن شکست میں ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ کی تاریخ کی تیز ترین ڈبل سینچری بنائی تھی۔

ڈکٹ کی پانچویں ایک روزہ بین الاقوامی سینچری اور کرن کی ثابت قدم بیٹنگ نے کچھ دیر کے لیے انگلینڈ کی اننگز کو سنبھالا، تاہم شاہین نے مزید دو وکٹیں حاصل کر کے انگلینڈ کی اننگز کا خاتمہ کر دیا۔





Source link

متعلقہ پوسٹ