امریکی سینیٹر نے مغربی کنارے میں ۹ امریکی شہریوں کی ہلاکت پر اسرائیل سے جوابدہی کا مطالبہ کیا

chris van hollen d


واشنگٹن: امریکی سینیٹر کرس وان ہولن نے 2022ء سے اب تک مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں یا اسرائیلی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے نو امریکی شہریوں کے لیے انصاف اور جوابدہی کا مطالبہ دہرایا ہے۔ انہوں نے سینیٹ کے فلور پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ان تمام ہلاکتوں میں سے کسی بھی واقعے میں اب تک کسی کو ذمہ دار ٹھہرایا نہیں گیا۔
سینیٹر وان ہولن نے ہلاک ہونے والوں میں 78 سالہ عمر اسد، الجزیرہ کی معروف صحافی شیریں ابو عاقلہ، 17 سالہ توفیق عبدالجبار، 17 سالہ محمد خضور، ترک-امریکی کارکن عائشہ نور ایزگی ایگی، 14 سالہ عامر ربیع، 20 سالہ سیف مصلط، 40 سالہ خمیس عیاد اور 19 سالہ نصر اللہ ابو صیام کے نام لیے۔
انہوں نے کہا کہ عمر اسد کو جنوری 2022ء میں اسرائیلی فوجیوں نے چوکی پر روکا، گاڑی سے باہر نکالا، ہاتھ پیٹھ کی طرف باندھے، منہ بند اور آنکھوں پر پٹی باندھی اور سرد زمین پر چھوڑ دیا؛ ان کی موت شدید ذہنی دباؤ سے دل کے دورے کے باعث ہوئی۔
سینیٹر نے بتایا کہ مئی 2022ء میں جنین پناہ گزین کیمپ کے قریب شیریں ابو عاقلہ کو سر میں گولی ماری گئی، حالانکہ وہ صحافتی شناخت ظاہر کرنے والے لباس میں تھیں۔ انہوں نے عائشہ نور ایزگی ایگی کو ستمبر 2024ء میں ایک اسرائیلی فوجی کی جانب سے تقریباً 200 میٹر کے فاصلے سے سر میں گولی لگنے اور عامر ربیع کو دو مختلف ہتھیاروں سے 11 بار گولی مارنے کا حوالہ بھی دیا۔
وان ہولن نے کہا کہ امریکہ کو اسرائیل پر دباؤ ڈال کر ان ہلاکتوں کی آزادانہ تحقیقات کروانی چاہئیں اور قبضے کے مظالم میں اپنی مبینہ شمولیت ختم کرنی چاہیے۔ انہوں نے ایک قرارداد بھی پیش کی تھی جس کے تحت محکمہ خارجہ کو 30 دن میں کانگریس کو ان ہلاکتوں اور مغربی کنارے میں انسانی حقوق کی صورت حال پر رپورٹ دینی ہوتی، لیکن سینیٹ نے گزشتہ ماہ اسے مسترد کر دیا تھا۔

متعلقہ پوسٹ