بیریئر ہٹانے اور کارِ سرکار میں مداخلت کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 10، 10 سال قید کی سزا

IMG 20261029 WA1767


راولپنڈی — انسدادِ دہشت گردی عدالت اسلام آباد کے جج طاہر عباس سپرا نے بیریئر ہٹانے اور کارِ سرکار میں مداخلت کے مقدمے میں وکیل و انسانی حقوق کی فعال ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ فیصلہ اڈیالہ جیل میں سنایا گیا اور عدالت نے دونوں ملزمان پر جرمانہ بھی عائد کیا۔
استغاثہ کے مطابق ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے 25 اکتوبر 2024 کو پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان راولپنڈی ٹیسٹ میچ کے موقع پر اسلام آباد کے زیرو پوائنٹ کے قریب نصب سیکیورٹی رکاوٹیں ہٹائیں، بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کے مقررہ سکیورٹی روٹ میں خلل ڈالا اور پولیس اہلکاروں پر حملے کی کوشش کی۔
رپورٹس کے مطابق عدالت نے تین مختلف دفعات کے تحت سزائیں سنائی ہیں؛ دہشت گردی سے متعلق دفعہ میں 10 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ، دفعہ 353 کے تحت دو سال قید اور 50 ہزار روپے جرمانہ، جبکہ دفعہ 186 کے تحت ایک سال قید اور 50 ہزار روپے جرمانہ شامل ہے۔ تاہم دفعہ 382 کے فائدے کے باعث مؤثر قید کی مدت 10 سال بتائی گئی ہے۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے تمام الزامات کی شدید تردید کرتے ہوئے انہیں من گھڑت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے خلاف مقدمات انسانی حقوق کے کارکنوں اور وکلا کو نشانہ بنانے کے سلسلے کا حصہ ہیں۔

متعلقہ پوسٹ