کتے – ایکسپریس اردو

2709603 shehlaaijaz 1726947362


پاکستان میں صحت کے مسائل بڑھتے ہی جا رہے ہیں کیونکہ دنیا بھر میں ہونے والی تباہ کن مہنگائی کے سیلاب نے دوائیوں کی قیمتوں کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے جبکہ ایسے حالات میں پرانے مسائل کو حل کرنا ہی کیا کم تھا کہ مہنگائی نے بھی اپنا زور دکھا دیا ہے۔

ملک بھر میں اگر دیکھا جائے تو پنجاب میں جہاں ستر فی صد سے زائد کی آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے ،شہروں کے مقابلے میں ویسے ہی صورتحال تشویش ناک ہے جب شہر کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں دوائیاں اور بستروں کی کمی نمایاں طور پر نظر آ رہی ہے تو دیہاتوں میں کس حال کی توقع کر سکتے ہیں۔

ہر سال ا سموگ کی وجہ سے لاکھوں لوگ فیصل آباد، گوجرانوالہ، ملتان اور لاہور میں متاثر ہوتے ہیں اس کے علاوہ دیگر بیماریوں میں مبتلا افراد کی تعداد الگ ہے۔ ان تمام امراض کی نشان دہی میں ہمیں آنکھوں سے نظر نہ آنے والے جراثیم بھی قاتل نظر آتے ہیں پر اس مائیکرو بائیولوجیکل مخلوق کے علاوہ بھی ایک مخلوق ہے جس کے کاٹے سے انسان جان سے ہی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔

ان نئے بڑھتے ہوئے کیسز میں کتے کے کاٹے کو بے شمار اندراج کیا گیا ہے۔ اب تک 2026 میں پنجاب میں اوسطاً ستر ہزار سے زائد کیس رپورٹ ہو چکے ہیں یعنی روزانہ کے اوسطاً چار سو کیس صرف لاہور میں ہی ان واقعات کی تعداد تیس ہزار سے بڑھ کر ہے تو اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے حالات کی سنگینی کا، اسی طرح سندھ کی جانب دیکھیں تو حالات مزید گمبھیر نظر آتے ہیں۔

پچھلے برس یعنی 2025 میں سگ گزیدگی کے پورے سندھ میں دو لاکھ سے زائد کیسز رپورٹ کیے گئے تھے حالیہ برس میں صرف جنوری سے اپریل تک ہی پچاس ہزار کیس درج کیے گئے یہ صورتحال روزانہ کے حوالے سے اندازاً سات سو کیس تک جاری ہے۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے اپنی ایک رپورٹ میں سال کی پہلی سہ ماہی میں ان کیسز کو 83 ہزار درج کیا ہے یہ خوفناک اور تشویش ناک حالت صرف ایک صوبے کی ہے۔ یہ بڑھتی ہوئی تعداد حالیہ سال کے ابتدائی نو مہینوں میں دو لاکھ سے زائد کی اندازاً بتائی جا رہی ہے۔

کتے کے کاٹنے سے اس کے تھوک میں شامل خطرناک جراثیم انسان میں منتقل ہو جاتے ہیں جو پاگل کتے کی حالت میں انتہائی خطرناک ثابت ہوتے ہیں اس بیماری کو ریبیز کہا جاتا ہے۔ 2026 میں سندھ میں اس بیماری سے چھیالیس اموات ہو چکی ہیں۔

یہ وہ تعداد ہے جو اسپتال جا کر علاج کراتے ہیں یا اسی غرض سے پہنچتے ہیں لیکن جانبر نہ رہ سکے اور ان افراد کے بارے میں ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ایک بڑی تعداد اس بیماری سے گھر پر ہی وفات پا جاتے ہیں، اس لیے مرنے والوں کی تعداد دگنی بھی ہو سکتی ہے۔

حیدرآباد سندھ میں سگ گزیدگی کے واقعات کی شرح میں 63 فی صد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ پچھلے برس اسپتال میں کتے کے کاٹے کا علاج کرانے کی غرض سے آنے والوں کی تعداد پندرہ سو سے زائد تھی جبکہ حالیہ برس ابھی ادھورا ہے اور ستمبر تک اس تعداد میں دگنا اضافہ ہوا ہے۔ا س دگنے اضافے کی وجہ کیا ہے؟

اس کی اہم وجہ آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ہے جس کو کنٹرول کرنا آسان نظر نہیں آ رہا۔ کہنے کو یہ بھی رب العزت کی ایک مخلوق ہیں لیکن ان کی بہتات انسانی زندگی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

سندھ حکومت نے اس حوالے سے ایک آگاہی پیغام چند مہینے قبل جاری کیا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ کتے کے کاٹے کو معمولی نہ سمجھا جائے کیونکہ اس سے ریبیز وائرس ہونے کا خدشہ ہے یہ ایک جان لیوا بیماری ہے۔

پیغام میں کہا گیا تھا کہ اگر کتا کاٹ بھی لے تو زخم کو فوری طور پر بیس منٹ تک صاف پانی اور عام صابن سے دھوئیں اور دھونے کے بعد فوراً قریبی اسپتال یا اینٹی ریبیز یونٹ جائیں اور ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق اینٹی ریبیز انجکشن لگوائیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا قریبی اسپتالوں میں ویکسین کی موجودگی کا امکان ہے؟ جبکہ بعض سرکاری اسپتالوں میں بھی اینٹی ریبیز ویکسین ناپید ہے۔

کچھ قانونی پیچیدگیوں کے باعث روایتی انداز میں کتوں کی تلفی کے حوالے سے بات سامنے آئی تو وہیں بجٹ کی کمی لیکن انسانی صحت سب سے پہلے آتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں آوارہ کتوں کے حوالے سے پھیلنے والی بیماریوں میں ریبیز اور دیگر متعدی بیماریوں کے باعث ان کی بے تحاشا افزائش کو نہ صرف سنگین مسئلہ سمجھا گیا بلکہ اس کے سدباب کے حوالے سے اقدامات بھی کیے جاتے ہیں جن سے ان کی بڑھتی ہوئی تعداد متاثر ہوتی ہے۔

وہ اپنی افزائش نسل بڑھانے سے محروم ہو جاتے ہیں اس طرح کے دیگر اقدامات سے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوئے ہیں لیکن ہمارے اپنے ملک میں جہاں غریب آدمی کی بیماری کی صورت میں عام نزلہ، کھانسی، بخار کی دوائیاں پہنچ سے دور ہیں، وہاں کتوں کی افزائش نسل کو روکنا اور دیگر اقدامات اختیار کرنا یقینا حیران کن ہی ہیں۔

کتوں کی بڑھتی افزائش کو روکنے کے لیے کیا کچھ کرنا چاہیے یا ہو رہا ہے یہ ایک الگ بات ہے لیکن ان کے کاٹے سے کم عمر بچوں کی اموات اور ریبیز کے پھیلاؤ کو کیسے روکا جائے وہ اہم بات ہے۔

ہمارے مذہب اسلام میں کتے کو بلا ضرورت پالنا مثلاً شوقیہ پالنا جیسے بہت سے لوگ معاشرے میں اپنے معیار زندگی کو بلند دکھانے کے لیے مہنگے کتے پالتے ہیں ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔ضرورت کے لیے پالنا جیسے شکار کے لیے، مویشیوں اور ان کے ریوڑ یا گھر اور مال کی حفاظت کے حوالے سے پالنا، کھیتی باڑی اور زراعت کے حوالے سے یہ ایک اچھا محافظ ثابت ہوتا ہے۔

رب العزت کی مخلوق کے حوالے سے تمام زبان اور بے زبان جانداروں سے شفقت اور محبت کا حکم دیا گیا ہے۔ کتا ایسا ہی ایک وفادار اور محبت کرنے والا جانور ہے لیکن آبادی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے ساتھ اس کی افزائش میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اس دور میں جب انسان کے لیے اپنا پیٹ بھرنا دشوار ہے کہ مہنگائی نے آگ لگائی ہوئی ہے ایسے ماحول میں کتے اپنا پیٹ کیسے بھریں، کیا سوشل میڈیا پر ایسی دل خراش ویڈیوز نہیں دیکھیں جس میں آوارہ کتے چھوٹے بچوں، کمزور اور بوڑھے افراد کو بھنبھوڑ کر رکھ دیتے ہیں کہ پیٹ کا دوزخ پریشان کرتا ہے۔

آدھی رات یا صبح سحر چوروں کی جان نکالنے والے یہ کتے ہی ہوتے ہیں جو اپنے علاقے میں کسی بھی مشکوک فرد کی موجودگی پر بھونک بھونک کر لوگوں کو چوکس کرتے ہیں۔ یہ دن رات کے بغیر تنخواہ کے محافظ اس وقت جان کو بھی آ جاتے ہیں جب ان پر ریبیز وائرس وارد ہوتا ہے اور یہ پاگل ہو جاتے ہیں۔ گلی، محلے ویرانوں میں بے تحاشا، بے شمار، گھومنے والے یہ بے زبان مخلوق انسانی ہمدردی اور توجہ کے مستحق ہیں لیکن سب سے اہم انسان ہیں یہ ضرور یاد رکھنا چاہیے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ