ایران کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ ایرانی شرائط تسلیم کر لیتا ہے تو اس صورت میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے دو روزہ منصوبے پر غور کیا جا رہا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو بریفنگ کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ دو روز میں اس منصوبے پر عمل درآمد کا امکان ایران کے نیک نیتی پر مبنی مؤقف کا ایک اور ثبوت ہے۔
ایران اور عمان کے درمیان واقع آبنائے ہرمز ایک اہم سمندری گزرگاہ ہے جہاں سے عالمی سطح پر ہونے والی تیل کی تجارت کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔
فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیلی حملے سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے جبکہ جواباً واشنگٹن نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
اس بارے میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اتوار کو الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ’تہران نے قطر اور پاکستانی ثالثوں کے ساتھ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے دو روزہ منصوبہ شیئر کیا ہے۔‘
’قطر اور پاکستان کے دوستوں نے اس معاملے پر متعدد مذاکرات کیے اور ایسی تجاویز پیش کیں جن سے ایرانی سات روزہ منصوبے پر عمل درآمد زیادہ قابل عمل اور وسیع پیمانے پر قابل قبول بنایا جا سکے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’زیر غور منصوبہ وہی ابتدائی سات روزہ ایرانی منصوبہ ہے، جس میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے تہران نے اپنی شرائط پیش کی تھیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’اب ہم دو روزہ منصوبے تک پہنچ چکے ہیں۔ اس کے تحت پہلے روز امریکہ اقدامات کا ایک مجموعہ نافذ کرے گا، جبکہ دوسرے روز آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی اور بحری آمدورفت معمول کی سابقہ صورتحال پر بحال ہو جائے گی۔‘
تاہم ایرانی وزات خارجہ کے ترجمان نے اس منصوبے کو ایرانی شرائط کو تسلیم کیے جانے سے جوڑا ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ اگر ایران کے مطالبات تسلیم کر لیے جائیں تو مختصر وقت میں آبنائے ہرمز کی سکیورٹی بحال کرنے اور مذاکراتی عمل دوبارہ شروع کرنے کا امکان موجود ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
ایران کی جانب سے یہ بیانات خطے میں دوبارہ جنگ شروع ہونے کے خدشات کو روکنے کے لیے جاری تازہ سفارتی کوششوں کے دوران سامنے آئے ہیں۔
قطر کے ثالث جمعے کو تہران پہنچے تھے، جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کی قومی سلامتی کے سربراہ محسن رضائی کو ایک خط بھیجا ہے۔

