
(24 نیوز)ایران نے امریکا کے ساتھ جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے اہم سفارتی پیشکش کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ اگر واشنگٹن تہران کے مطالبات تسلیم کر لے تو آبنائے ہرمز کو 48 گھنٹوں میں دوبارہ آپریشنل کر سکتے ہیں،اس حوالے سے ایران نے امن معاہدے کا مسودہ بھی تیار کرلیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی یہ پیشکش خطے میں سیکیورٹی کی بحالی اور امریکا کے ساتھ مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کرنے کے لیے ایران کی جانب سے حسنِ نیت کا اظہار ہے۔
دوسری جانب ایران نے جنگ کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے معاہدے کا مسودہ بھی تیار کر لیا ہے، جسے متعلقہ فریقوں کی آرا اور تجاویز حاصل کرنے کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع ختم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ اسی سلسلے میں ایرانی وفد قطر سے مثبت پیش رفت اور نئی امید کے ساتھ وطن واپس پہنچ گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ بدستور جاری ہے اور مذاکرات کے امکانات ختم نہیں ہوئے۔
ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی اور وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے بھیجے گئے حالیہ خط کو اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
موجودہ سفارتی سرگرمیوں سے عندیہ ملتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
تاہم امن معاہدے کی حتمی شرائط، امریکی ردعمل اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے عملی فیصلے کے حوالے سے مزید پیش رفت کا انتظار ہے۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست فوجی جنگ کا آغاز 28 فروری 2026ء کو ہوا، جب امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی حملے شروع کیے۔ ان حملوں کے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائیاں کیں اور مشرق وسطیٰ میں ایک بڑی جنگ شروع ہوگئی۔
یہ تنازع محض دو ممالک تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات اسرائیل، خلیجی ممالک، عالمی تیل کی منڈی اور بین الاقوامی تجارت تک پہنچے۔ آبنائے ہرمز کی بندش اور تیل کی ترسیل میں رکاوٹ اس جنگ کے اہم ترین عالمی اثرات میں شامل ہیں۔
1۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے امریکا اور ایران کے تعلقات
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کئی دہائیوں پر محیط ہے، 1979ء کے دوران ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہوئے، 1980ء تا 1988 کے دوران ایران عراق جنگ کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھتی رہی۔
2018ءکے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری معاہدے (JCPOA) سے امریکا کو الگ کر لیا اور ایران پر دوبارہ سخت اقتصادی پابندیاں عائد کر دیں۔
2019ء: خلیج فارس میں آئل ٹینکروں پر حملوں اور امریکی ڈرون مار گرائے جانے کے واقعات سے کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
2020ء: امریکی حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی ہلاک ہوئے، جس کے بعد ایران نے عراق میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
2025ء اور 2026ء کے آغاز میں: ایران کے جوہری پروگرام، میزائل صلاحیت اور علاقائی اثر و رسوخ پر اختلافات کے باعث کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
ٰیہ بھی پڑھیں :ذخیرہ ختم، آرامکو نے پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت بند کردی

