
(ویب ڈیسک)امریکی ایوان نمائندگان کی تمام 435 اور سینیٹ کی 35 نشستوں پر انتخابات کا عمل جاری ہے۔
امریکا میں ہونے والے مڈٹرم انتخابات میں ایوان نمائندگان کی تمام 435 اور سینیٹ کی 35 نشستوں سمیت 36 ریاستوں کے گورنرز کا انتخاب بھی کیا جائے گا جبکہ انتخابی نتائج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آئندہ دو سالہ حکومتی پالیسیوں اور سیاسی مستقبل کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جارہے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق امریکی کانگریس مجموعی طور پر 535 نشستوں پر مشتمل ہے، جس میں ایوان نمائندگان کی 435 اور سینیٹ کی 100 نشستیں شامل ہیں، ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے کسی بھی جماعت کو کم از کم 218 نشستیں درکار ہوں گی۔
امریکی مڈٹرم انتخابات کے دوران 36 ریاستوں میں گورنرز کا انتخاب بھی عمل میں آئے گا، جبکہ 14 ریاستوں میں رواں سال گورنر کے انتخابات نہیں ہوں گے، ان ریاستوں کے موجودہ گورنرز اپنی آئینی مدت مکمل ہونے تک عہدوں پر برقرار رہیں گے۔
نیویارک، واشنگٹن، فلوریڈا، جارجیا، اوہائیو، الاسکا اور مین سمیت متعدد ریاستوں کے انتخابی نتائج کو خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ ان کے اثرات آئندہ سیاسی منظرنامے پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔
سینیٹ میں ری پبلکنز کو برتری، 35 نشستوں پر مقابلہ
امریکی سینیٹ میں اس وقت ری پبلکن پارٹی کو 53 جبکہ ڈیموکریٹس اور ان کے اتحادیوں کو مجموعی طور پر 47 نشستیں حاصل ہیں، مڈٹرم انتخابات میں سینیٹ کی 35 نشستوں پر ووٹنگ کا عمل جاری ہے، جن میں دو ایسی نشستیں بھی شامل ہیں جن پر سابق سینیٹرز نے اہم حکومتی عہدے سنبھالنے کے بعد استعفیٰ دیا تھا۔
جے ڈی وینس نے امریکی نائب صدر بننے کے بعد اوہائیو کی سینیٹ نشست چھوڑ دی تھی، جبکہ مارکو روبیو نے وزیر خارجہ مقرر ہونے کے بعد فلوریڈا کی سینیٹ نشست سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
دونوں ریاستوں کے گورنرز نے ان خالی نشستوں پر عارضی سینیٹرز مقرر کیے تھے، تاہم اب ان نشستوں کی باقی ماندہ مدت کے لیے انتخابات جاری ہیں۔
پیر تک 5 کروڑ 70 لاکھ سے زیادہ افراد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کر لیا
ان انتخابات کے لیے ووٹنگ کئی ہفتے قبل ہی شروع کردی گئی تھی اور اب تک بڑی تعداد میں ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر چکے ہیں۔
امریکی مڈ ٹرم الیکشن امریکی صدر کی چار سالہ مدت کے درمیان منعقد ہوتے ہیں اور ان میں صدر کا انتخاب نہیں ہوتا۔ تاہم اس سال کے انتخابات کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پیر تک 5 کروڑ 70 لاکھ سے زیادہ افراد ’قبل از وقت‘ اپنے ووٹ کا حق استعمال کر چکے تھے۔
یونیورسٹی آف فلوریڈا کی الیکشن لیب کے مطابق 2022 کے وسط مدتی انتخابات میں قبل از وقت ووٹ ڈالنے والے افراد کی تعداد 4 کروڑ 60 لاکھ افراد تھی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رواں سال ووٹرز کی بڑی تعداد ووٹنگ عمل میں شریک ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس بار انتخابات امریکی تاریخ کے مہنگے ترین انتخابات بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ غیر جانبدار ادارے اوپن سیکرٹس کے اندازے کے مطابق امیدواروں اور دیگر سیاسی گروپس کی جانب سے انتخابی مہم پر مجموعی طور پر 11 ارب 90 کروڑ ڈالر خرچ کیے جائیں گے۔
انتخابی مہم میں کیے جانے والے اخراجات کے ریکارڈ کے مطابق ایلون مسک بھی تین ہفتے قبل تک ریپبلکنز کی حمایت میں تقریباً 36 کروڑ 60 لاکھ ڈالر خرچ کر چکے تھے۔ تاہم عام طور پر مڈ ٹرم الیکشن میں ووٹ ڈالنے والوں کی تعداد صدارتی انتخابات کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔

