*اسلام آباد کچہری کے باہر بھارتی اسپانسرڈ اور افغان طالبان کی پراکسی ’’فتنہ الخوارج‘‘ کا خودکش حملہ — 12 شہید، درجنوں زخمی

Screenshot 20251111 224926 1 1

*اسلام آباد کچہری کے باہر بھارتی اسپانسرڈ اور افغان طالبان کی پراکسی ’’فتنہ الخوارج‘‘ کا خودکش حملہ — 12 شہید، درجنوں زخمی*

جی
اسلام آباد:وفاقی دارالحکومت میں جی الیون کچہری کے باہر ایک خوفناک خودکش دھماکہ ہوا جس میں کم از کم 12 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق یہ دہشت گرد حملہ بھارتی اسپانسرڈ اور افغان طالبان کی پراکسی تنظیم ’’فتنہ الخوارج‘‘ کا کارنامہ ہے، جو پاکستان میں بدامنی پھیلانے اور ریاستی اداروں کو کمزور کرنے کے لیے سرگرم ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق دھماکہ کچہری کے باہر پارکنگ ایریا میں موجود گاڑی میں ہوا، جس سے زوردار آواز دور دور تک سنائی دی۔ دھماکے کے نتیجے میں قریبی گاڑیوں میں آگ لگ گئی جبکہ وکلاء، سائلین اور شہری زد میں آگئے۔
ریسکیو اور پولیس ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو پمز سمیت قریبی اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا۔
ذرائع کے مطابق مبینہ خودکش حملہ آور کا سر جائے وقوعہ سے برآمد کرلیا گیا ہے، جو دھماکے کی نوعیت کی تصدیق کرتا ہے۔ زخمیوں کی تعداد کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں. بعض ذرائع 12 جبکہ پولیس ذرائع 21 زخمیوں کی تصدیق کرتے ہیں۔
دھماکے کی شدت سے قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
اسلام آباد کے شہریوں نے فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وفاقی دارالحکومت میں شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے نیم فوجی دستے تعینات کریں، کیونکہ موجودہ پولیس فورس اتنے بڑے پیمانے کے دہشت گرد حملوں سے نمٹنے کی اہلیت نہیں رکھتی۔
حکام کے مطابق یہ حملہ پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنے اور عوام میں خوف کی فضا پیدا کرنے کی سوچی سمجھی کوشش ہے۔ سیکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کردی ہیں۔

متعلقہ پوسٹ