(24نیوز) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں مہنگائی کے خلاف مظاہوں میں شریک ایرانی شہریوں پر تشدد کی صورت میں براہ راست امریکی مداخلت کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو اس پر ایران کے روحانی رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر نے سخت جوابیبیان دیا ہے۔ قیادت کی جانب سے سخت ردعمل دیا گیا ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی سلامتی کی طرف بڑھنے والا ہر مداخلت پسند ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔
علی شمخانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی قوم امریکا کی جانب سے دوسروں کو ’بچانے‘ کے تجربات سے بخوبی واقف ہے، چاہے وہ عراق ہو، افغانستان ہو یا غزہ۔
اسی دوران ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حایرانی عوام کی مدد کیلئے ایران میں مداخلت کرنے کے بیان کے جواب میں ایکس پر کہا کہ اسرائیلی حکام اور ٹرمپ کے بیانات کے بعد پردے کے پیچھے ہونے والی سرگرمیاں اب واضح ہو چکی ہیں۔
علی لاریجانی نے کہا کہ ایران مظاہرے کرنے والے تاجروں کے مؤقف اور ہنگامہ آرائی کی کارروائیوں میں واضح فرق کرتا ہے۔
لاریجانی نے خبردار کیا کہ ایران کے اندرونی معاملات میں امریکی مداخلت پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر دے گی اور ایسی کوئی مداخلت امریکہ کے مفادات کو نقصان پہنچائے گی۔
یہ بھی پڑھیئے: عوام خوش نہیں تو ذمہ دار ہم ہیں امریکہ نہیں، ایرانی صدرکااعتراف
لاریجانی نے کہا کہ امریکی عوام کو جان لینا چاہیے کہ اس مہم جوئی کی ابتدا خود ٹرمپ نے کی ہے۔ لہٰذا انہیں اپنے فوجیوں کی سلامتی کے بارے میں ہوشیار رہنا چاہیے۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا ہے کہ اگر ایران نے پُرامن مظاہرین پرتشدد کیا یا انہیں قتل کیا تو امریکہ ان کو بچانے کے لیے آئے گا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل ٹروتھ بیان میں مزید لکھا کہ ہم ایرانی مظاہرین کو بچانے جانےکے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔


