سائنسدانوں نے کینسر کے خلاف تحقیق میں ایک اہم پیش رفت حاصل کرتے ہوئے انسانی جسم کے قدرتی حفاظتی نظام (امیون سسٹم) کے ایسے طریقۂ کار کی نشاندہی کی ہے جو کینسر کے خلیات کو پہچاننے اور ان کے خلاف مؤثر ردعمل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تحقیقی ماہرین کے مطابق انسانی مدافعتی نظام میں موجود بعض خلیات کینسر کے ابتدائی مرحلے میں ہی غیر معمولی خلیوں کو شناخت کر کے انہیں ختم کرنے کی قدرتی صلاحیت رکھتے ہیں، تاہم اب سائنسدانوں نے اس عمل کو مزید مؤثر بنانے کے طریقے دریافت کر لیے ہیں۔ اس پیش رفت سے مستقبل میں کینسر کے علاج کو زیادہ مؤثر، محفوظ اور کم مضر اثرات والا بنانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نئی تحقیق کے نتیجے میں ایسے علاج سامنے آ سکتے ہیں جو جسم کے قدرتی دفاعی نظام کو متحرک کر کے کینسر کے خلاف لڑنے میں مدد دیں گے، بجائے اس کے کہ صرف کیموتھراپی یا ریڈیوتھراپی جیسے روایتی طریقوں پر انحصار کیا جائے۔ اس طریقۂ علاج سے صحت مند خلیات کو کم نقصان پہنچنے کا امکان ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق یہ دریافت کینسر کی مختلف اقسام، بشمول پھیپھڑوں، چھاتی اور خون کے کینسر کے علاج میں نئی راہیں کھول سکتی ہے۔ تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اس تحقیق کو عملی علاج کی شکل دینے کے لیے مزید تجربات اور کلینیکل ٹرائلز کی ضرورت ہوگی۔
طبی ماہرین نے اس سائنسی پیش رفت کو کینسر کے خلاف جنگ میں ایک امید افزا قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مستقبل میں یہ تحقیق لاکھوں مریضوں کے لیے نئی زندگی کی امید بن سکتی ہے۔

