پی ایم ڈی سی منظور شدہ اور شفاف امتحانی معیارات نافذ کرے،ڈاکٹر طاہر خان
مطالبات پورے نہ ہوئے تو پی ایم ڈی سی کے باہر احتجاج کرینگے،

IMG 20260115 WA0928

پی ایم ڈی سی منظور شدہ اور شفاف امتحانی معیارات نافذ کرے،ڈاکٹر طاہر خان
مطالبات پورے نہ ہوئے تو پی ایم ڈی سی کے باہر احتجاج کرینگے، پریس کانفرنس
اسلام آباد(سٹی رپورٹر)پاکستان فارن ڈاکٹرزمیڈیکل گریجویٹس ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے مطالبہ کیا ہے کہ پی ایم ڈی سی فوری طور پر بین الاقوامی سطح پر منظور شدہ اور شفاف امتحانی معیارات نافذ کرے،نا جائز طریقے سےڈی لسٹ کی گئی یونیورسٹیاں جوپہلے ہی ورلڈ ڈائریکٹری آف میڈیکل سکولز سےتسلیم شدہ ہیںکو فوری طور پر دوبارہ بحال کیا جائے، غیر قانونی طور پر سینکڑوں اہل ڈاکٹروں کو NRE-2 میں شرکت کرنے سے روکنے والی ماضی کی تمام پالیسیاں واپس لی جائیں،پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، ایک ہفتہ میں مطالبات منظور نہ کئے گئے تو ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب کے صدر ڈاکٹر شعیب نیازی کی قیادت میں پی ایم ڈی سی کے باہر احتجاج کرینگے،ان خیالات کا اظہارپاکستان فارن ڈاکٹرزمیڈیکل گریجویٹس ایسوسی ایشن کےصدر ڈاکٹرطاہرخان سکندری نے، جنرل سیکرٹری ڈاکٹر عبدل رحمٰن گجر،ترجمان ڈاکٹر کفایت اللہ، چئیرمین ڈاکٹر نعمان عُمرانی،ڈاکٹر وقاص اکبر، ڈاکٹر خرا ، ڈاکٹر سیدۂ فاطمہ نائب صدر خواتین ونگ ،میڈیا سیکرٹری ڈاکٹر ثمر اور فنانس سیکرٹری ڈاکٹر عدنان کے ہمراہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا،پاکستان فارن ڈاکٹرزمیڈیکل گریجویٹس ایسوسی ایشن کے عہدیداران کا مزید کہنا تھا کہ پی ایم ڈی سی کو پچھلے NRE-1 امتحانات کے تمام امیدواروں کے تفصیلی نمبر شائع کرنے چاہیے تاکہ طلباء اپنے نمبرز  پاس ہونے کی شرح  اورناکامی کی وجہ جان سکیں،تمام  ایف ایم جی کوپی آر ایم پی جاری کیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنا ہاؤس جاب بغیر رکاوٹ جاری رکھ سکیں،پی ایم ڈی سی ماضی کی ایسی تمام پالیسیاں واپس لے چاہیےجو غیر قانونی طور پر سینکڑوں اہل ڈاکٹروں کو NRE-2 میں شرکت کرنے سے روکنے کا باعث بنتی ہیں،پاکستان فارن ڈاکٹرزمیڈیکل گریجویٹس ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج کے خلاف سخت کارروائی کریں جو ظالمانہ، غیر قانونی اور طلبہ مخالف پالیسیاں نافذ کر رہے ہیں جنہوں نے ہزاروں پاکستانی ڈاکٹروں کے مستقبل کو تباہ کر دیا ہے۔

متعلقہ پوسٹ