ٹرمپ کا گرین لینڈ پر کنٹرول کا اعلان، پیچھے ہٹنے سے انکار

IMG 20260120 WA2483


واشنگٹن/برسلز: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول سے متعلق بیان نے ٹرانس اٹلانٹک تعلقات میں ایک نیا تناؤ پیدا کر دیا ہے۔ امریکی صدر نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اس معاملے میں ’’واپس جانے کا کوئی راستہ نہیں‘‘، جس کے بعد نیٹو اتحادیوں اور یورپی دارالحکومتوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
امریکی صدر کے اعلان کو یورپ میں خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق نیٹو کے اندر اس بیان پر غیر معمولی بے چینی پائی جاتی ہے، کیونکہ گرین لینڈ ڈنمارک کے زیرِ انتظام ایک خودمختار خطہ ہے اور ڈنمارک نیٹو کا اہم رکن ہے۔
یورپی یونین کے حکام نے بھی اس پیش رفت پر سخت ردِعمل دیا ہے۔ برسلز میں ہونے والے ابتدائی مشاورتی اجلاسوں میں امریکا کے خلاف ممکنہ تجارتی اقدامات پر غور شروع کر دیا گیا ہے، جبکہ بعض یورپی رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ اس نوعیت کے بیانات مغربی اتحاد کی یکجہتی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
دوسری جانب ڈنمارک اور گرین لینڈ کی مقامی قیادت نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرین لینڈ کی حیثیت اور مستقبل کا فیصلہ صرف اس کے عوام کریں گے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس تنازع نے نہ صرف امریکا اور یورپ کے تعلقات کو آزمائش میں ڈال دیا ہے بلکہ آرکٹک خطے میں بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک کشیدگی کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر بیانات کی سطح سے آگے کوئی عملی قدم اٹھایا گیا تو اس کے اثرات نیٹو، عالمی تجارت اور امریکا۔یورپ تعلقات پر دور رس ثابت ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ پوسٹ