پاکستان زراعت، صنعت، کانکنی، اے آئی اور آئی ٹی میں تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے: وزیراعظم شہباز شریف

IMG 20260121 WA2571

ڈیووس،
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان زراعت، صنعت، کانکنی، مصنوعی ذہانت (AI) اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تیزی سے اڑان بھرنے کے لیے تیار ہے، جب کہ حکومت مکمل شفافیت، ادارہ جاتی اصلاحات اور سیاسی و عسکری قیادت کے مابین ہم آہنگی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔
عالمی اقتصادی فورم (WEF) کے 56ویں سالانہ اجلاس کے موقع پر پاکستان پویلین میں پاکستان بریک فاسٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں معاشی اشاریے نمایاں طور پر بہتر ہوئے ہیں۔ مہنگائی کی شرح 30 فیصد سے کم ہو کر 5.5 فیصد، جب کہ پالیسی ریٹ 22.5 فیصد سے کم ہو کر 10.5 فیصد پر آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکس وصولی 10.5 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو چند برس قبل 9 فیصد تھی۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو برآمدات پر مبنی ترقی کی راہ اختیار کرنا ہوگی۔ زراعت، آئی ٹی اور کانکنی کے شعبوں میں مثبت پیش رفت ہو رہی ہے اور آئی ٹی برآمدات سالانہ تین ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چین کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری برقرار ہے اور اب امریکہ کے ساتھ بھی معاشی تعلقات کو وسعت دی جا رہی ہے، خصوصاً کانکنی اور معدنیات کے شعبے میں امریکی اور چینی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں طے پا چکی ہیں۔
وزیراعظم نے نوجوانوں کو ملک کا سب سے بڑا اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں فنی اور پیشہ ورانہ تربیت کے ذریعے نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے مشترکہ طور پر کام کر رہی ہیں۔ نیوٹیک کے تحت فراہم کی جانے والی تربیت بین الاقوامی معیار کے مطابق ہے، جس کے نتیجے میں پاکستانی نوجوان بیرون ملک معیاری روزگار حاصل کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری مکمل شفافیت کے ساتھ کی گئی اور اب دیگر اداروں، ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ، بجلی کے شعبے اور تقسیم کار کمپنیوں کی اصلاحات کی طرف بھی پیش رفت کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ سخت آئی ایم ایف پروگرام پر دیانتداری سے عمل درآمد کے باعث پاکستان کی معاشی بحالی کو عالمی سطح پر ایک مثال کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ غیر مؤثر اور نقصان دہ اداروں جیسے یوٹیلٹی اسٹورز، پاسکو اور پی ڈبلیو ڈی کو بند کرنے کے فیصلے مشکل مگر ناگزیر تھے، تاکہ قومی وسائل کے ضیاع کو روکا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کے لیے سیاسی و عسکری قیادت کے درمیان مکمل ہم آہنگی ناگزیر ہے۔
اختتام پر وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے اور اگر قوم بے لوث قربانی، مسلسل محنت اور مشترکہ وژن کے ساتھ آگے بڑھی تو ملک بہت جلد خوشحالی اور ترقی کی منزل حاصل کر لے گا۔

متعلقہ پوسٹ