لاہور پولیس نے کے آئی پی ایس ایجوکیشن سسٹم کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عابد وزیر خان کے مبینہ اغوا کے واقعے پر نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
پولیس کے مطابق مقدمہ جمعرات کے روز عابد وزیر خان کے بھائی طاہر وزیر خان کی مدعیت میں تھانہ جوہر ٹاؤن میں درج کیا گیا۔ ایف آئی آر پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 365 کے تحت درج کی گئی ہے، جو کسی شخص کو اغوا یا اس نیت سے لے جانے سے متعلق ہے کہ اسے خفیہ اور غیر قانونی طور پر قید رکھا جائے۔
ایف آئی آر میں مدعی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ واقعے کے وقت عابد وزیر خان اور کے آئی پی ایس کی جنرل منیجر، لبنیٰ، کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت ہو رہی تھی۔ دورانِ گفتگو عابد وزیر خان نے مبینہ طور پر غیر معمولی صورتحال کا عندیہ دیا، جس کے بعد رابطہ منقطع ہو گیا۔ بعد ازاں ان سے دوبارہ رابطہ نہ ہو سکا، جس پر اہلِ خانہ کو ان کے اغوا کا خدشہ لاحق ہوا۔
مدعی کے مطابق واقعے کے بعد فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی گئی، تاہم تاحال عابد وزیر خان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں سے تفتیش کی جا رہی ہے، سی سی ٹی وی فوٹیجز، کال ڈیٹا ریکارڈ اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق اغوا میں ملوث افراد کی شناخت اور عابد وزیر خان کی بحفاظت بازیابی کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں، جبکہ تحقیقات کو مختلف زاویوں سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب واقعے نے تعلیمی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جہاں کے آئی پی ایس جیسے بڑے تعلیمی ادارے کے سربراہ کے مبینہ اغوا پر سیکیورٹی انتظامات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد حقائق سامنے لائے جائیں گے اور ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

