ایران کا پابندیاں ختم کرنے اور جوہری پروگرام جاری رکھنے پر اصرار

FB IMG 1769761058809 1


واشنگٹن/تہران – ایران اور امریکا کے درمیان تعطل جاری ہے جب تہران نے واشنگٹن کے مطالبات مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ بیلسٹک میزائل پروگرام کسی گفت و شنید کا موضوع نہیں ہو سکتا
سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے امریکی مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ گھریلو افزودگی کا خاتمہ، میزائل پروگرام میں کمی، اور علاقائی اتحادیوں کی حمایت ختم کرنا ناقابلِ قبول ہے  ۔
ستمبر 2025 میں فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے کہا کہ ایران نے 2015 کے جوہری معاہدے کی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں، جس پر اقوامِ متحدہ کی پابندیاں دوبارہ نافذ ہو گئیں چھ سیکیورٹی کونسل کی قراردادیں 27 ستمبر 2025 کو بحال کی گئیں جن میں یورینیم افزودگی، بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی، اور اسلحے کی منتقلی پر پابندیاں شامل ہیں  ۔
صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو "ختم” کر دے ۔ جنوری 2026 میں واشنگٹن نے ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک پانچ اداروں اور ایک فرد پر نئی پابندیاں عائد کیں   ۔
امریکا نے واضح کیا کہ وہ صرف تب بات چیت کرے گا جب ایران تین شرائط قبول کرے: یورینیم افزودگی کا خاتمہ، مشرقِ وسطیٰ میں حامیوں کو مسلح کرنا بند کرنا، اور میزائل پروگرام پر پابندیاں قبول کرنا ہے
ایران نے اپنی سرخ لکیر برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ وہ نہ افزودگی ترک کرے گا اور نہ میزائل پروگرام پر بات کرے گا   ۔
28 دسمبر 2025 سے ایران کے تمام 31 صوبوں میں معاشی بدحالی اور افراطِ زر کے خلاف احتجاج جاری ہیں   ۔ چین اور روس نے پابندیوں کی بحالی کو، جو بین الاقکو تسلیم کرنے سے ان جو بین الاقوامی  تقسیم کی عکاسی کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں فریقوں کے سخت موقف کی وجہ سے تعطل طویل ہو سکتا ہے اور علاقائی تناؤ میں مزید اضافہ متوقع ہے

متعلقہ پوسٹ