ا
تہران – ایران نے جرمنی کے سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج کیا جب جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے ایرانی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ‘ایسا نظام جو اپنے ہی لوگوں کے خلاف کھلے تشدد اور خوف کے ذریعے اقتدار برقرار رکھے، اس کے دن گنے جا چکے ہیں’۔
چانسلر مرز نے مزید کہا کہ ‘یہ چند ہفتوں کا معاملہ بھی ہو سکتا ہے، اس حکومت کے پاس ملک پر حکمرانی کرنے کی کوئی اخلاقی حیثیت باقی نہیں رہی’۔
ایرانی دفتر خارجہ نے ان بیانات کو ملک کے داخلی معاملات میں ناقابلِ قبول مداخلت قرار دیتے ہوئے جرمن سفیر سے وضاحت طلب کی۔ تہران کا کہنا ہے کہ یہ ریمارکس جرمنی کی جانب سے ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب 28 دسمبر 2025 سے ایران کے تمام 31 صوبوں میں معاشی بدحالی اور بڑھتی ہوئی افراطِ زر کے خلاف احتجاج جاری ہیں ۔
جرمنی سمیت مغربی ممالک نے ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ تہران مسلسل یہ موقف اختیار کرتا رہا ہے کہ یہ بیانات اس کے داخلی معاملات میں مداخلت ہیں۔
اس تنازع سے ایران اور یورپی یونین کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے، خاص طور پر جب جوہری پروگرام اور اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کے حوالے سے گفت و شنید پہلے ہی تعطل کا شکار ہے

