اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے افغانستان میں موجود دہشت گرد گروپوں کو عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے حالات نائن الیون سے بھی بدتر ہو گئے ہیں۔
صدر زرداری نے اپنے ایک بیان میں عالمی رہنماؤں کا اسلام آباد میں امام بارگاہ حملے پر پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے پر شکریہ ادا کیا۔
گزشتہ جمعہ 6 فروری 2026 کو اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع امام بارگاہ خدیجہ الکبریٰ میں نمازِ جمعہ کے دوران خودکش دھماکا ہوا۔ (Aaj TV) ابتدائی رپورٹوں کے مطابق اس المناک واقعے میں 32 افراد شہید اور 170 سے زائد زخمی ہوئے۔
پولیس ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور نے امام بارگاہ میں داخل ہونے کی کوشش کی جسے وہاں موجود افراد نے روکا، جس پر اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
دہشت گرد تنظیم داعش نے اس خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
واقعے کے فوراً بعد وفاقی دارالحکومت کے تمام بڑے اسپتالوں بشمول پمز، پولی کلینک اور سی ڈی اے ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی دورہ دبئی سے واپسی پر براہ راست جائے واقعہ پہنچے۔
صدر آصف علی زرداری نے اس حملے کے بعد سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکومت پر افغانستان میں دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام لگایا اور کہا کہ موجودہ صورتحال 2001 کے واقعات سے بھی زیادہ تشویشناک ہو چکی ہے۔
یہ حملہ اس وقت ہوا جب اسلام آباد میں بین الاقوامی سطح کے اہم اجلاس منعقد ہو رہے تھے، جس سے ملک میں سیکیورٹی صورتحال پر سنگین سوالات اٹھے ہیں

