بنگلادیش میں نئی حکومت کے آتے ہی فوج میں بڑی سطح پر ردوبدل — چیف آف جنرل اسٹاف سمیت متعدد اعلیٰ افسران تبدیل

IMG 20260223 WA1249


بنگلادیش میں وزیراعظم طارق رحمان کی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے محض چند روز بعد ہی فوج کے اعلیٰ قیادتی ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کیا گیا ہے۔ آرمی ہیڈکوارٹرز نے گزشتہ روز اتوار کو باقاعدہ احکامات جاری کیے۔
لیفٹیننٹ جنرل محمد معین الرحمان کو بنگلادیشی فوج کا نیا چیف آف جنرل اسٹاف (CGS) تعینات کیا گیا ہے۔ وہ اس سے قبل آرمی ٹریننگ اینڈ ڈاکٹرین کمانڈ (ARTDOC) میں جنرل آفیسر کمانڈنگ کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ ان کے پیشرو لیفٹیننٹ جنرل مزانور رحمان شامم حال ہی میں ریٹائر ہو گئے تھے۔ 
آرمڈ فورسز ڈویژن کے پرنسپل اسٹاف آفیسر (PSO) کے عہدے پر لیفٹیننٹ جنرل میر مشفیق الرحمان کو تعینات کیا گیا ہے، جو اس سے پہلے چٹاگانگ میں 24ویں انفینٹری ڈویژن کے GOC تھے۔ سابق PSO لیفٹیننٹ جنرل ایس ایم کمرالحسن کو وزارت خارجہ میں بطور سفیر منتقل کر دیا گیا ہے۔ 
نئی دہلی میں بنگلادیش ہائی کمیشن میں دفاعی مشیر کے طور پر تعینات بریگیڈئیر جنرل محمد حفیظ الرحمان کو ترقی دے کر میجر جنرل بنا دیا گیا ہے اور انہیں 55ویں انفینٹری ڈویژن کا GOC مقرر کیا گیا ہے۔ 
اس کے علاوہ فوجی انٹیلی جنس ادارے DGFI کی قیادت بھی تبدیل کی گئی ہے۔ بریگیڈئیر جنرل قیصر رشید چودھری کو ترقی دے کر DGFI کا نیا ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا گیا ہے جبکہ سابق DG میجر جنرل محمد جہانگیر عالم کو وزارت خارجہ سے منسلک کر دیا گیا ہے۔ 
یہ ردوبدل نئی قیادت کی جانب سے افواج پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ تبدیل کیے گئے متعدد افسران کو سابق نگراں حکومت کے سربراہ محمد یونس کے دور میں تعینات کیا گیا تھا۔  (RTÉ) تاہم وزارت دفاع کے حکام نے ان تبادلوں کو معمول کی تقرریاں قرار دیا ہے۔

متعلقہ پوسٹ