نیدرلینڈز میں آج ایک تاریخی لمحہ اس وقت آیا جب 38 سالہ سینٹرسٹ رہنما روب یٹن نے وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھایا۔ وہ ملک کی تاریخ کے سب سے کم عمر وزیراعظم بن گئے ہیں، اور ساتھ ہی وہ نیدرلینڈز کے پہلے وزیراعظم بھی ہیں جنہوں نے کھلے عام اپنی ہم جنس پرستی کا اعتراف کر رکھا ہے۔
شاہ ولیم الیگزینڈر نے دی ہیگ کے شاہی محل ہوس ٹین بوش میں نئی کابینہ سے حلف لیا اور "غیر یقینی حالات” میں نئی حکومت کو نیک خواہشات دیں۔
یٹن، وسط پسند اور یورپ نواز جماعت ڈیموکریٹس 66 (D66) کے سربراہ ہیں، جنہوں نے اکتوبر 2025 کے قبل از وقت انتخابات میں انتہائی دائیں بازو کے رہنما گیرٹ ولڈرز کو کانٹے کی ٹکر میں شکست دے کر سب کو حیران کر دیا تھا۔
ان کی اقلیتی اتحادی حکومت — جس میں کرسچن ڈیموکریٹس (CDA) اور لبرل جماعت VVD شامل ہیں — 117 دنوں کی طویل مذاکراتی عمل کے بعد وجود میں آئی ہے۔ تاہم یہ اتحاد پارلیمنٹ کی 150 نشستوں میں سے صرف 66 نشستیں رکھتا ہے، یعنی حکومت کو ہر قانون کی منظوری کے لیے اپوزیشن کی حمایت درکار ہوگی۔
اپوزیشن جماعتیں دفاعی اخراجات بڑھانے کی خاطر فلاحی اور صحت کے بجٹ میں کٹوتی کے منصوبے پر پہلے ہی سخت ناراضگی ظاہر کر چکی ہیں، جس سے یٹن کی حکومت کو ابتدا سے ہی شدید مخالفت کا سامنا ہے۔
یٹن نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز 2017 میں پارلیمنٹ میں داخلے سے کیا تھا اور سابق وزیراعظم مارک روٹے کی کابینہ میں موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کے وزیر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ نیدرلینڈز کو دوبارہ "یورپ کے دل” میں لے کر جائیں گے اور یوکرین کی مکمل حمایت جاری رکھیں گے۔

