روس کی پاک افغان کشیدگی پر تشویش — مذاکرات کی میز پر واپسی کا مطالبہ

images 19


ماسکو — روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری مسلح جھڑپوں میں اچانک شدت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
زاخارووا نے اپنے بیان میں کہا کہ روس دونوں ممالک کے درمیان اس خطرناک تصادم کی صورتحال کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھتا ہے اور دونوں فریقوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ فوری طور پر اس تصادم کو ترک کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام اختلافات کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے اور دونوں ممالک مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔
روس کا یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب پاکستان کا آپریشن غضب للحق جاری ہے اور پاکستانی افواج نے 274 طالبان ہلاک اور 18 سرحدی چوکیاں قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کی کارروائی کی حمایت کرتے ہوئے مداخلت سے انکار کرچکے ہیں۔
روس کے اس بیان کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر عالمی برادری کی بڑھتی ہوئی تشویش کا اظہار قرار دیا جارہا ہے۔

متعلقہ پوسٹ