بقلم: محمد سلیم
مارچ 2026 کا مہینہ عالمی معیشت کے لیے ایک کڑوا سبق لے کر آیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جیو پولیٹیکل کشیدگی، خاص طور پر امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازعے نے تیل کی سپلائی لائنوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ آبنائے ہرمز کا بحران، جو عالمی تیل کی تجارت کا ایک اہم راستہ ہے، اب ایک بوتل نیک کی طرح کام کر رہا ہے جہاں سے گزرنے والا ہر بیرل تیل کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ نتیجہ؟ دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں، اور صارفین سے لے کر معیشتوں تک سب اس کی زد میں ہیں۔

اس کالم میں ہم مختلف ممالک میں ہونے والے ان اضافوں کا جائزہ لیں گے، جو حالیہ رپورٹس اور اعداد و شمار پر مبنی ہیں۔ یہ اضافے نہ صرف حیران کن ہیں بلکہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ تیل درآمد کرنے والے ممالک کس قدر کمزور ہیں۔ آئیے ملک وار تفصیل دیکھتے ہیں:
پاکستان: یہاں اضافہ سب سے زیادہ ڈرامائی ہے۔ 6 مارچ کو پیٹرول کی قیمت میں 55 پاکستانی روپے فی لیٹر کا اضافہ ہوا، جس سے ڈیزل کی قیمت 336 PKR فی لیٹر تک پہنچ گئی۔ یہ جنوبی ایشیا میں سب سے مہنگا ایندھن ہے، جو تقریباً 1.15 ڈالر فی لیٹر کے برابر ہے۔ سپلائی کی کمی کے خدشات نے عوام کو پریشان کر دیا ہے، اور حکومت کو کفایت شعاری کی پالیسیاں اپنانا پڑ رہی ہیں۔
امریکہ: عالمی معیشت کا انجن بھی اس بحران سے محفوظ نہیں۔ گیسولین کی قیمتیں 11 ماہ کی بلند ترین سطح پر ہیں، جو اوسطاً 3.25 ڈالر فی گیلن ہیں – یہ پچھلے ہفتے سے 9% کا اضافہ ہے۔ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل میں 4.6% اضافہ ہو کر 78.15 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔ مشرق وسطیٰ کی برآمدات میں رکاوٹ نے ہیوی کروڈ کی قیمتیں کئی سال کی بلند ترین سطح پر پہنچا دی ہیں، جو امریکی ڈرائیورز اور صنعتوں کے لیے بری خبر ہے۔
بھارت: ہمسایہ ملک میں کوکنگ گیس (LPG) کی قیمت دہلی میں 913 بھارتی روپے فی سلنڈر تک پہنچ گئی ہے۔ پیٹرول کے مخصوص اضافے کی تفصیل تو نہیں، لیکن علاقائی اثرات نے پیٹرولیم مصنوعات کو مجموعی طور پر مہنگا کر دیا ہے۔ بھارت کی درآمد شدہ ایندھن پر انحصار کی وجہ سے یہ اضافہ گھریلو معیشت پر بوجھ ڈال رہا ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں جہاں LPG روزمرہ کی ضرورت ہے۔
نیدرلینڈز: یورپ کا یہ ملک بھی متاثر ہے۔ یورو95 گیسولین کی قیمت 2.319 یورو فی لیٹر ہو گئی، جو فروری کے شروع سے تقریباً 0.069 یورو کا اضافہ ہے۔ ڈیزل 2.187 یورو فی لیٹر تک پہنچ گیا، جو عالمی تیل میں 8% اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔ نیدرلینڈز جیسے ملکوں میں، جہاں نقل و حمل پر انحصار زیادہ ہے، یہ اضافہ مہنگائی کو ہوا دے رہا ہے۔
برطانیہ: قدرتی گیس کی قیمت 165 پینس فی تھرم سے زیادہ ہو گئی، جو تین سال کی بلند ترین سطح ہے۔ برینٹ خام تیل مختصر طور پر 85 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلا گیا، جو تنازعے سے پہلے کی سطح سے نمایاں اضافہ ہے۔ یہ موٹر ایندھن اور نقل و حمل کی لاگت کو بڑھا رہا ہے، اور برطانیہ کی توانائی کمپنیاں اب صارفین پر یہ بوجھ منتقل کر رہی ہیں۔
یورپ (عام): پورے براعظم میں گیس کی قیمتیں فروری کے آخر سے دوگنی ہو کر €65 فی میگاواٹ آور (MWh) تک پہنچ گئیں۔ تیل کی قیمتیں آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہیں، جہاں برینٹ خام تیل کی اوسط 82 ڈالر فی بیرل سے زیادہ ہے۔ پیش گوئیوں کے مطابق، 2026 کی دوسری سہ ماہی میں یہ 76 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے، جو یورپی یونین کی معیشتوں کے لیے الارم ہے۔
عالمی خام تیل: برینٹ خام تیل میں 8.52% اضافہ ہو کر 92.69 ڈالر فی بیرل، اور WTI میں 12.21% اضافہ ہو کر 90.90 ڈالر فی بیرل ہو گیا – یہ صرف 6 مارچ کا اضافہ ہے، جو حالیہ سالوں کا تیز ترین روزانہ اضافہ ہے۔
یہ اضافے صرف اعداد نہیں، بلکہ عوام کی جیب پر حملہ ہیں۔ تجزیہ کار خبردار کر رہے ہیں کہ اگر تنازعہ طول پکڑ گیا تو مزید اضافے ہوں گے، جو افراط زر اور معاشی سست روی کا باعث بنیں گے۔ پاکستان جیسے ممالک میں، جہاں تیل کی درآمد پر انحصار ہے، حکومت کو چاہیے کہ متبادل توانائی ذرائع جیسے شمسی اور ہوائی توانائی پر توجہ دے۔ ورنہ، یہ بحران نہ صرف قیمتوں کا بلکہ سیاسی استحکام کا بھی امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔
عالمی سطح پر، یہ وقت ہے کہ ممالک اپنے اسٹریٹجک تیل ذخائر بڑھائیں اور تنوع لائیں۔ اگر ہم نے ابھی سے نہ سوچا تو کل کی قیمت اور بھی زیادہ ہوگی۔

