ٹرمپ کا بحری اتحاد بنانے کا خواب چکنا چور — جاپان، آسٹریلیا، برطانیہ اور جرمنی نے بھی انکار کر دیا

IMG 20260316 WA1981


واشنگٹن / ٹوکیو / کینبرا — 16 مارچ 2026
ایران جنگ کے سولہویں روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے بین الاقوامی بحری اتحاد بنانے کی کوشش کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب ایک کے بعد ایک اتحادی ملک نے فوجی شرکت سے صاف انکار کر دیا۔
برطانیہ، جاپان اور آسٹریلیا نے آبنائے ہرمز میں بحری جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا۔ جرمن وزیرِ خارجہ یوہان واڈے فول نے بھی کہا کہ وہ نہ فوری ضرورت دیکھتے ہیں اور نہ ہی جرمنی کی اس مشن میں شرکت کا کوئی امکان ہے۔ فرانسیسی وزیرِ دفاع پہلے ہی بحری جہاز بھیجنے سے انکار کر چکی ہیں۔ 
جاپانی وزیرِاعظم سانائے تاکائچی نے پارلیمنٹ میں کہا کہ ہم نے بحری جہاز بھیجنے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ ہم یہ جائزہ لے رہے ہیں کہ جاپان قانونی دائرے میں رہتے ہوئے کیا کر سکتا ہے۔ 
آسٹریلوی وزیر برائے ٹرانسپورٹ کیتھرین کنگ نے اے بی سی کو بتایا کہ آبنائے ہرمز میں بحری جہاز بھیجنا ان اقدامات میں شامل نہیں جو آسٹریلیا ابھی زیرِ غور رکھتا ہے۔ تاہم آسٹریلیا نے فضائی امداد ضرور بھیجی ہے۔ 
برطانوی وزیرِاعظم کیر اسٹارمر نے واضح کر دیا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کا کوئی منصوبہ نیٹو مشن نہیں ہوگا اور برطانیہ اس وسیع تر جنگ میں کھنچنے سے انکاری ہے۔ 
خام تیل کی قیمت 104.50 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی اور ایشیائی منڈیاں کمزور رہیں۔ 28 فروری کو آپریشن ایپک فیوری کے آغاز کے بعد سے تقریباً ایک ہزار آئل ٹینکر آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے ہیں۔
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس اراقچی نے کہا کہ کئی ممالک نے ایران سے محفوظ گزرگاہ کی درخواست کی ہے اور یہ فیصلہ ایرانی فوج کرے گی کہ کسے گزرنے دیا جائے۔ بھارت نے تہران سے مذاکرات کے بعد دو گیس ٹینکر کامیابی سے گزروانے میں کامیابی حاصل کی۔ 
ٹرمپ کی دھمکی:
ٹرمپ نے کہا کہ میں ان ممالک سے مطالبہ کر رہا ہوں کہ وہ آگے آئیں اور اپنی سمندری حدود کی حفاظت خود کریں۔ نیٹو اتحادیوں کے عدمِ تعاون کو انہوں نے نیٹو کے مستقبل کے لیے خطرناک قرار دیا۔ 

متعلقہ پوسٹ